اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دفاعی شعبے کے لیے 5 ارب روپے سے زائد کی تکنیکی ضمنی گرانٹس اور پنجاب میں پائیدار ترقیاتی اہداف ’ایس ڈی جیز‘ پروگرام کے لیے 2 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منظوری وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے ای سی سی اجلاس میں دی گئی، جس میں ترقیاتی، دفاعی اور ڈیجیٹل منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اگلے مالی سال سے دفاعی اخراجات کو باقاعدہ وفاقی بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی نے خصوصی بچوں کے لیے 15 گاڑیوں کی خریداری کی مد میں 32 کروڑ روپے کی منظوری دی، جو آٹزم سینٹر اسلام آباد میں زیرِ علاج بچوں کے لیے فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں آسان خدمت مرکز کے قیام کے لیے 80 کروڑ روپے بھی منظور کیے گئے۔
ڈیجیٹل شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے ای سی سی نے ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کے لیے 3.7 ارب روپے کی منظوری دی اور ای گورننس اور قومی آئی سی ٹی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ اجلاس میں ایف بی آر کے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام کی بھی منظوری دی گئی، جس کے لیے تیسرے سہ ماہی میں 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں ایشیا پیٹرولیم لمیٹڈ ’اے پی ایل‘ پائپ لائن کے مستقبل کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جسے 31 جنوری تک ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے فروغ کے لیے ایک فنانس فنڈ کی منظوری دی گئی، جس کے لیے 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق 6 ماہ بعد فنڈ کے استعمال سے متعلق کارکردگی رپورٹ پیش کرنا لازم ہوگا۔
یہ فیصلے دفاعی مالیاتی نظم و ضبط، ڈیجیٹل گورننس کے فروغ، سماجی بہبود اور ثقافتی صنعتوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ مجموعی ترقیاتی اہداف کے حصول کی حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔