بلوچستان کے ضلع خاران میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے مختلف سرکاری دفاتر اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تین مقامات پر حملے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔
ذرائع کے مطابق 50 سے 60 مسلح دہشتگرد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر خاران شہر میں داخل ہوئے اور ایک منظم منصوبے کے تحت مختلف مقامات پر کارروائیاں شروع کیں۔ اطلاعات کے مطابق 20 سے 25 دہشتگردوں نے خاران پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور پولیس اہلکاروں کو مصروف رکھنے کے لیے شدید فائرنگ کی، جبکہ ایک دوسرے گروہ نے بینک کو لوٹنے کی کوشش کی۔ شہری علاقوں اور سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانا دہشتگردوں کے منصوبے کا حصہ تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے دستے فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوئے۔ تاہم دہشتگردوں نے شہر کے مختلف مقامات پر پہلے سے ناکہ بندیاں قائم کر رکھی تھیں اور راستے میں موجود پہاڑی علاقوں سے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر انداز میں دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی جھڑپوں میں کم از کم پانچ دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ بعد ازاں قریبی علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر مزید کارروائیاں کی گئیں، جہاں مزید دو سے تین دہشتگردوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے دباؤ کے باعث باقی دہشتگرد علاقہ چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں اس سے قبل بھی بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائیوں کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔