وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایپ بیسڈ ٹیکسی اور آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز کو پہلی مرتبہ باقاعدہ قانونی دائرے میں لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
فیصلے کے تحت آن لائن رائیڈ بُکنگ کے لیے ایک جامع اور واضح قانونی فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں تیار کیا گیا بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا ہے، جسے شہری ٹرانسپورٹ کے نظام میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بل کے مطابق اسلام آباد میں کام کرنے والی تمام آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز سے وابستہ ڈرائیورز کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے رجسٹریشن لازمی ہو گی، جبکہ بغیر رجسٹریشن کسی بھی ڈرائیور یا سروس کو شہر میں آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ وہ سروس شروع کرنے سے قبل باقاعدہ آپریشن سرٹیفکیٹ حاصل کریں، تاکہ ان کی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
قانون کے تحت ڈرائیورز کے لیے ویلڈ، یعنی درست اور مستند، ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رائیڈ ہیلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن اور سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی تکنیکی حالت بہتر بنائی جا سکے اور حادثات کے خدشات کم ہوں۔
بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ رائیڈ ہیلنگ کمپنیاں اپنے تمام ڈرائیورز اور گاڑیوں کا مکمل اور اپ ڈیٹ ریکارڈ محفوظ رکھنے کی پابند ہوں گی، جبکہ متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کرنا بھی لازم ہو گا، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، شکایت یا قانونی کارروائی کی صورت میں فوری رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
قانون سازی کے متن کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا، آن لائن ٹرانسپورٹ کے شعبے میں شفاف اور جواب دہ نظام قائم کرنا اور رائیڈ ہیلنگ سیکٹر کو منظم خطوط پر استوار کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فریم ورک سے نہ صرف مسافروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ ڈرائیورز اور کمپنیوں کے حقوق و فرائض بھی واضح ہوں گے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں رائیڈ شیئرنگ اور ایپ بیسڈ ٹیکسی سروسز طویل عرصے سے بغیر کسی جامع قانونی فریم ورک کے کام کر رہی تھیں، جس کے باعث مختلف انتظامی، حفاظتی اور قانونی مسائل سامنے آ رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق نئے قانون کے نفاذ سے ان مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور شہریوں کو محفوظ، معیاری اور قابلِ اعتماد سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔