بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد کے حوالے سے آن لائن پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ (ای پروٹیکٹر) کو لازمی قرار دینے کی خبریں حقیقت کے برعکس ہیں۔
ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر بعض حلقے دانستہ طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یکم فروری 2026 سے تمام افراد کو ای پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا، تاہم اس قسم کی کوئی پالیسی یا ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
بیورو نے مزید وضاحت کی ہے کہ جن افراد کے پاسپورٹس پر پہلے سے پروٹیکٹر اسٹیکر یا مہر درج ہے، انہیں کسی نئے سرٹیفکیٹ کے حصول کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ان کے لیے کوئی اضافی شرط عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بیرون ملک روزگار، حکومت کا نوجوانوں کیلئے بڑا اعلان
بیان میں کہا گیا ہے کہ ای پروٹیکٹر کے حوالے سے کسی نئے نظام، طریقہ کار یا قانونی تبدیلی کا نفاذ نہیں کیا گیا، جبکہ افواہیں پھیلانے سے عوام میں غیر ضروری تشویش پیدا ہو رہی ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے شہریوں، بالخصوص بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند افراد، سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں اور صرف سرکاری و مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر ہی اعتماد کریں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔

