آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک اور سابق اوپنر ایرن فنچ نے پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف کو آئندہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے اسکواڈ سے باہر رکھنے کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے، حالانکہ وہ فرنچائز کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں۔
ایک حالیہ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دونوں سابق کرکٹرز نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں رؤف کی متاثرکن فارم کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی میچ وننگ صلاحیتوں کو تسلیم کیا، تاہم یہ بھی کہا کہ عالمی ٹورنامنٹ کے لیے اسکواڈ کا انتخاب کنڈیشنز، توازن اور کھلاڑیوں کے واضح کرداروں پر منحصر ہوتا ہے۔
ایرن فنچ نے رؤف کو ایک ’ایکس فیکٹر‘ بولر قرار دیا جو اپنی رفتار اور جارحانہ انداز سے میچ کا رخ بدل سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانا کہ ٹی 20 فارمیٹ میں وہ بعض اوقات مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔
فنچ نے کہا کہ ’ٹی 20 کرکٹ میں، خاص طور پر فلیٹ پچز پر، سب سے اہم چیز ایسے بولرز کا ہونا ہے جو کھیل کے تینوں مراحل میں وکٹیں لے سکیں،‘ اور وکٹ لینے کی صلاحیت کی اہمیت پر زور دیا۔
مائیکل کلارک نے بھی اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ کنڈیشنز اسکواڈ کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں کامیابی ہمیشہ برصغیر میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔
کلارک نے کہا کہ ’آسٹریلیا میں کھیلنا سری لنکا اور بھارت میں کھیلنے سے مختلف ہے،‘ اور مزید کہا کہ بی بی ایل میں رؤف کا کردار ممکن ہے کہ آنے والے ٹورنامنٹ کی کنڈیشنز کے مطابق نہ ہو۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ورلڈ کپ اسکواڈ کا انتخاب اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ میچز کہاں کھیلے جائیں گے اور ہر کھلاڑی ٹیم کی مجموعی حکمت عملی میں کس طرح فٹ بیٹھتا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ سے قبل فارم کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
کلارک نے کہا کہ ’اسکواڈ کے انتخاب میں یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ کھلاڑی اچھا کرکٹ کھیل کر اور بہترین فارم کے ساتھ ٹورنامنٹ میں داخل ہوں۔‘
ان تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حارث رؤف کی صلاحیتوں اور اثر پذیری کو تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم پاکستان کی ٹیم مینجمنٹ نے سری لنکا اور بھارت میں ہونے والے میچز کے لیے کنڈیشنز، کردار اور ٹیم بیلنس کو ترجیح دی۔