بلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کی کوئی جگہ نہیں، دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے،خواجہ آصف

بلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کی کوئی جگہ نہیں، دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے،خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلوچستان میں سکیورٹی، اسمگلنگ اور علیحدگی پسند عناصر سے متعلق تفصیلی مؤقف پیش کیا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کا وسیع اور دشوار گزار جغرافیہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہاں بڑے پیمانے پر فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں چمن بارڈر پر شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ نام نہاد نیشنلسٹ تحریکوں سے مذاکرات کیے جائیں، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کی کوئی جگہ نہیں ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی اسمگلنگ کے ذریعے یہ عناصر یومیہ اربوں روپے کما رہے تھے اور جب حکومت نے ان کے خلاف کارروائی کی تو اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا، 3 روز میں 177 دہشتگرد ہلاک

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بی ایل اے کے نام پر سرگرم کئی جرائم پیشہ افراد اسمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ صوبے میں بعض قبائلی عمائدین، بیوروکریسی کے چند عناصر اور علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان ایک خطرناک گٹھ جوڑ بن چکا ہے، جو ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہا ہے۔

وزیر دفاع نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 177 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ 16 سکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قربانیاں ملک کے امن اور سلامتی کے لیے دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مخصوص جغرافیائی حالات، طویل سرحدوں اور دشوار گزار علاقوں کے باعث وہاں اضافی فوجی نفری کی تعیناتی ناگزیر ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے پاس ایسا جدید اور مہنگا اسلحہ موجود ہے یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اتنا جدید امریکی اسلحہ آخر کہاں سے آ رہا ہے اور کون سے ہاتھ ان عناصر کو مضبوط کر رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں :دہشتگردوں کے خاتمے کے بعدگوادر میں زیرِ تعمیرسائٹ سے اسلحہ برآمد

خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں کہا کہ جو عناصر فساد، قتل و غارت اور دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ریاست ایسے گروہوں کے ساتھ بات چیت کے بجائے پوری قوت کے ساتھ جواب دے گی۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *