سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کرنے سے قبل ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے باقاعدہ تحریری اجازت اور رضا مندی حاصل کی گئی تھی، جو کہ قوانین کے مطابق ضروری تھی۔
فیاض الحسن چوہان کے مطابق عمران خان کی فیملی میں ان کی اہلیہ اور بچے شامل ہیں۔ بچے ملک سے باہر ہیں جبکہ بشریٰ بی بی جیل میں ہیں، اس لیے قانون کے تحت انہی سے اجازت لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام قانونی تقاضے مکمل کیے گئے تھے۔
فیاض الحسن چوہان نے انکشاف کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے اصرار پر عمران خان کی بہنوں کو اس معاملے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان کو خدشہ تھا کہ اگر پمز آمد کے موقع پر ہزار یا دو ہزار کارکن جمع ہو گئے تو اس ہجوم کے باعث کسی وائرس یا بیماری کے لگنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
سابق صوبائی وزیر نے الزام عائد کیا کہ یوٹیوبرز اپنے ڈالرز کمانے کے لیے عمران خان کے علاج کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ جب نواز شریف جیل میں تھے اور جس روز کلثوم نواز کا انتقال ہوا، اس دن نواز شریف نے جیل انتظامیہ سے متعدد بار فون پر بات کروانے کی درخواست کی، تاہم ہر بار انہیں یہی بتایا گیا کہ اجازت نہیں ہے۔ بعد ازاں آدھی رات کو شہباز شریف نے نواز شریف کو کلثوم نواز کے انتقال کی اطلاع دی تھی۔