بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیان پر پاک فوج کا کرّارا جواب، پاکستان ایٹمی طاقت اور جنوبی ایشیا کے جغرافیے کا ناقابلِ تردید حصہ ہے، آئی ایس پی آر

بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیان پر پاک فوج کا کرّارا جواب، پاکستان ایٹمی طاقت اور جنوبی ایشیا کے جغرافیے کا ناقابلِ تردید حصہ ہے، آئی ایس پی آر

بھارتی فوج کے سربراہ (آرمی چیف) کی جانب سے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے خلاف دیے گئے انتہائی زہریلے اور اشتعال انگیز بیان پر پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے سخت اور دندان شکن ردِعمل جاری کیا ہے۔

ترجمان افواجِ پاکستان نے بھارتی عسکری قیادت کے مضحکہ خیز دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر رہنے والی بھارتی قیادت حقیقت پسندی سے عاری ہو چکی ہے۔

بھارتی آرمی چیف نے اپنے انٹرویو میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا چاہیے آیا وہ خطے کے جغرافیے اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں‘۔ اس گستاخانہ اور غیر ذمہ دارانہ گیدڑ بھبکی پر آئی ایس پی آر نے بھارتی قیادت کو آئینہ دکھا دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا باضابطہ اور کرّارا مؤقف

ترجمان افواجِ پاکستان نے بھارتی پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکالتے ہوئے اپنے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ایک مسلمہ اور تسلیم شدہ عالمی ایٹمی طاقت ہے، جسے مٹانے کا خواب دیکھنا دیوانے کی بڑھک کے سوا کچھ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ، قومی جذبوں کو گرما دینے والا آئی ایس پی آر کا تیار کردہ نیا ملی نغمہ جاری

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا ایک ایسا روشن اور ناقابلِ تردید حصہ ہے جسے کوئی بھی منفی طاقت مٹا نہیں سکتی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہندوتوا کی زیرِ قیادت کام کرنے والے بھارت کے خبثِ باطن اور منفی عزائم پر مبنی تصوراتی سوچ کے برعکس، پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر اپنی ایک الگ، منفرد اور انتہائی اہم اسٹرٹیجک حیثیت رکھتا ہے۔

ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل اوپندرا دویویدی کا اشتعال انگیز بیان ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان کے وجود کے تصور کو قبول نہیں کرسکی، نہ ہی بھارتی قیادت 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود کوئی سبق سیکھ سکی، یہ جنگجوانہ، متکبرانہ، تنگ نظر ذہنیت بارہا جنوبی ایشیا کو جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ایک خودمختار ایٹمی ہمسایہ ملک کو’جغرافیے‘ سے مٹانے کی دھمکی کوئی اسٹرٹیجک اشارہ ہے نہ کوئی سفارتی دباؤ، بلکہ یہ ایک ذہنی دیوالیہ پن، جنون اور جنگی جنون کا عکاس ہے، بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ ذمہ دار ایٹمی ریاستیں تحمل اور اسٹریٹیجک سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

مودی سرکار، ہندوتوا اور اندرونی ناکامیاں

اس اشتعال انگیزی کا پس منظر بھارت کی موجودہ مودی سرکار کے ہندوتوا نظریے اور اس کی اندرونی و بیرونی ناکامیوں سے جڑا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ جب بھی بھارت کو لداخ کے محاذ پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا مقبوضہ جموں کشمیر میں اس کا غاصبانہ تسلط عالمی سطح پر بے نقاب ہوتا ہے، تو بھارتی عسکری اور سیاسی قیادت اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے روایتی طور پر پاکستان مخالف کارڈ کا استعمال شروع کر دیتی ہے۔

موجودہ ہندوتوا حکومت بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کر کے ہندو راشٹرا کی فاشسٹ سوچ کو فروغ دے رہی ہے اور بھارتی آرمی چیف کا یہ غیر پیشہ ورانہ بیان اسی سیاسی و نظریاتی ایجنڈے کا تسلسل ہے جس کا مقصد نئی دہلی کے انتہا پسند ووٹرز کو خوش کرنا ہے۔

گیدڑ بھبکیوں کا حقیقت سے تضاد

واضح رہے کہ ایک پیشہ ور آرمی چیف کو ایسا سیاسی اور غیر حقیقت پسندانہ بیان دینا زیب نہیں دیتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان طاقت کا توازن برقرار ہے اور دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

پاکستان نے سال 1998 میں ایٹمی دھماکے کر کے اپنے دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیا تھا، جبکہ سال 2019 کے ’آپریشن اسپیفٹ ریٹارٹ‘ میں جب بھارت نے مہم جوئی کی کوشش کی تو پاک فضائیہ نے دن دیہاڑے بھارتی طیارے گرا کر اور ان کے پائلٹ کو گرفتار کر کے اپنی عسکری برتری ثابت کر دی تھی اس کے بعد معرکہ حق میں عبرتناک شکست بھی بھارت کے سامنے ہے۔

ایسے مضبوط دفاعی پس منظر کے حامل ملک کو جغرافیے سے مٹانے کی دھمکی دینا صرف بھارتی میڈیا کی ریٹنگ بڑھانے کا ذریعہ تو بن سکتا ہے، لیکن عملی میدان میں یہ مضحکہ خیز ہے۔

آئی ایس پی آر نے بروقت اور نپی تلی زبان میں جواب دے کر عالمی برادری کو یہ باور کرا دیا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے لیکن اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

Related Articles