چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ جن جماعتوں نے وفاق میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا ان کے ساتھ گلگت بلتستان میں حکومت سازی نہیں کی جائے گی ، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف پی ٹی آئی کا مؤقف واضح ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کسی قسم کا فارورڈ بلاک موجود نہیں، گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے جن میں سے 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کی گئی، انہوں نے کہا کہ عوام نے جس کو مینڈیٹ دیا ہے، حکومت بنانے کا حق بھی اسی کو حاصل ہونا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ اگر منتخب نشستوں میں ردوبدل کیا گیا یا جیتی ہوئی نشستیں کسی اور کو دی گئیں تو یہ عمل قبول نہیں کیا جائے گا پی ٹی آئی پاور شیئرنگ کے تصور پر یقین نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 24 نشستوں میں پی ٹی آئی کو واضح برتری حاصل ہے اور مختلف مراحل میں 17 نشستوں کے نتائج میں 8 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت پرامن احتجاج کی حامی ہے اور عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے، تاہم تشدد اور قانون ہاتھ میں لینے کی کوئی حمایت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کی کال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حقوق کے لیے یہ احتجاج جائز ہے اور صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے مطابق حصہ ملنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ 12 جون کو ممکنہ بجٹ اجلاس سے متعلق مشاورت جاری ہے اور پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ بجٹ کو کس طرح ڈیل کرنا ہے، کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور یوٹیلیٹی بلز کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے گزشتہ 34 ہفتوں سے ملاقاتیں بند ہیں جو کہ قابلِ تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قیدی کو اتنے طویل عرصے تک ملاقات سے محروم رکھنا تاریخ میں کم ہی دیکھا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سابق وزیراعظم سے ملاقات ان کا قانونی اور آئینی حق ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ ملاقاتیں فوری بحال ہونی چاہئیں، کیونکہ ملاقاتوں پر پابندیوں نے معاشرتی سطح پر نفرت اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔