وفاقی وزیر کی کینسر کے مریضوں سے ملاقات، اے ای سی ایچ نوری میں سماجی تحفظ کی سہولیات کا جائزہ

وفاقی وزیر کی کینسر کے مریضوں سے ملاقات، اے ای سی ایچ نوری میں سماجی تحفظ کی سہولیات کا جائزہ

وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ (PA&SS)، سید عمران احمد شاہ نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں واقع Atomic Energy Cancer Hospital (AECH) NORI (نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی و ریڈیوتھراپی انسٹیٹیوٹ) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان بیت المال (PBM) کے تعاون سے مستحق کینسر مریضوں کے لیے جاری فلاحی اقدامات کا جائزہ لیا۔

وفاقی وزیر کے وفد کا استقبال ممبر (سائنس) Pakistan Atomic Energy Commission (PAEC)، ڈائریکٹر جنرل (کینسر ہسپتال) اور ڈائریکٹر نوری نے کیا۔ یہ دورہ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس کے تحت نوری ملک کے ممتاز کینسر علاج کے اداروں میں شمار ہوتا ہے اور مریضوں کو جدید تشخیصی و علاجی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سید عمران احمد شاہ نے اے ای سی ایچ نوری اور پی اے ای سی کے دیگر ہسپتالوں کی شاندار خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج کا یہ دورہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے وژن کے عین مطابق ہے، جس کے تحت غربت میں کمی محض نعرہ نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک مشن ہے۔‘‘ وفاقی وزیر نے اس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان بیت المال اور دیگر سماجی تحفظ کے پروگراموں کا دائرہ آئندہ برسوں میں بجٹ میں اضافے کے ذریعے مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ مستحق مریضوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں حکومت کی جانب سے پاکستان بیت المال میں حالیہ بہتریوں سے آگاہ کیا، جن سے مستحق مریضوں کو نمایاں فائدہ حاصل ہوا ہے۔ انفرادی مالی معاونت(میڈیکل) کی حد ایک ملین روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ ملین روپے کر دی گئی ہے۔ 2008 سے اب تک پاکستان بیت المال نے اے ای سی ایچ نوری کے لیے تقریباً تین ارب 44 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جن سے تقریباً انتیس ہزار مریضوں کا علاج ممکن بنایا گیا۔
رواں مالی سال میں اب تک NORI کے 1008 مریضوں کے لیے بیت المال کی جانب سے 22 کروڑ 68 لاکھ کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان بیت المال کے ذریعے مریضوں کو دی جانے والی رقم نہ زکوٰۃ ہے اور نہ ہی خیرات، بلکہ یہ وفاقی حکومت کا عطیہ جاتی (اینڈومنٹ) فنڈ ہے۔‘‘ وفاقی وزیر نے ہدایت جاری کی کہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو علاج کے لیے پاکستان بیت المال کی طرف ریفر کیا جائے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان میں ہم اس وقت صحت کی دیکھ بھال کے بجائے مریض کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، حالانکہ صحت کی دیکھ بھال کا مطلب بیماری سے پہلے لوگوں کا خیال رکھنا ہے۔ ہمیں علاج کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر بھی توجہ دینی چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: صبر ختم ہونے کو، عالمی قوانین کے تحت جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں، پاکستان کا افغانستان کو سخت ڈی مارش

وفاقی وزیر نے ہدایات دیں کہ پاکستان بیت المال کے زیرِ سرپرستی مریضوں کے لیے رقوم کی فراہمی کا طریقہ کار مزید آسان بنایا جائے اور ہسپتالوں میں مریضوں کے انتظار کا وقت کم کیا جائے۔

اس سے قبل ڈاکٹر شکیل عباس روفی، ممبر (سائنس) پی اے ای سی، نے وفاقی وزیر کو اے ای سی ایچ نوری کی مریض نگہداشت کی سہولیات، علاجی استعداد اور پاکستان بیت المال کی معاونت کے مثبت اثرات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے ملک بھر میں کام کرنے والے پی اے ای سی کے 21 کینسر ہسپتالوں کے کردار کو اجاگر کیا اور عوامی صحت کے اداروں کے ساتھ مل کر سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے حکومتی تعاون کو سراہا۔

اس موقع پر ڈاکٹر ہمیرا محمود، ڈائریکٹر اے ای سی ایچ نوری، نے ہسپتال کی کارکردگی پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہسپتال کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 میں International Atomic Energy Agency (IAEA) نے اے ای سی ایچ نوری کو ’’ریز آف ہوپ اینکر سینٹر‘‘ قرار دیا ہے۔

بعد ازاں وفاقی وزیر نے پاکستان بیت المال کے تعاون سے چلنے والی مختلف سہولیات کا معائنہ کیا، انتظامی چیلنجز کا جائزہ لیا اور مریضوں و مستفید ہونے والوں سے براہِ راست ملاقات کر کے فلاحی اقدامات کی افادیت پر ان کی رائے حاصل کی۔ انہوں نے کمزور طبقات بالخصوص جان لیوا بیماریوں سے نبرد آزما افراد کے لیے معیاری صحت کی سہولیات اور سماجی تحفظ کی فراہمی کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *