وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی معاشی دباؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت مستحکم ہے
حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے وزیر خزانہ نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
جس کے اثرات دیگر ممالک کی طرح پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں ۔حکومت ان ابتدائی اثرات کو بہتر انداز میں سنبھال رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :10 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کا ری کیلئے پاکستان قابل عمل منصوبوں کیلئے کوشاں: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کے مطابق ٹرانسپورٹ، زراعت اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت عالمی چیلنجز کے باوجود مثبت سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل ہونا بھی ایک اہم کامیابی ہے ۔
جو معاشی استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور اقتصادی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں : این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا فارمولا تبدیل کرنے پرغور کیا جائے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
نہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے منفی اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں جن میں مہنگائی میں اضاف
برآمدات میں کمی اور مجموعی معاشی صورتحال پر دباؤ شامل ہو سکتا ہے۔وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بدلتے ہوئے عالمی حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے
کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی تاکہ ملکی معیشت کا استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

