ملک میں ایچ آئی وی کے زیرِ علاج مریضوں کے حوالے سے تشویشناک رپورٹ سامنےآ گئی

ملک میں ایچ آئی وی کے زیرِ علاج مریضوں کے حوالے سے تشویشناک رپورٹ سامنےآ گئی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت ملک میں 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے علاج کے عمل سے گزر رہے ہیں، جبکہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی میش کمار ملانی نے کی، جس میں صحت کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اور پالیسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی ارکان نے وزارت صحت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ طلب کردہ اہم تفصیلات شامل نہیں کی گئیں، جن میں صوبہ بلوچستان کا ایچ آئی وی ڈیٹا بھی شامل ہے۔ ارکان نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو مجموعی کیسز کا تقریباً 75 فیصد بنتے ہیں۔

وزیر صحت نے وضاحت کی کہ 84 ہزار افراد اس وقت رجسٹرڈ علاج میں ہیں، جبکہ 2019 میں 24 ہزار مریض علاج کے لیے رجسٹر ہوئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019-20 میں 20 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 کے پہلے نو ماہ میں 9 ہزار 700 کیسز سامنے آئے۔

کمیٹی نے نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی مثبت قرار دیے گئے 31 مریضوں کے علاج کی پیش رفت سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے پر تشویش ظاہر کی۔ اسی طرح ضلع سرگودھا (کوٹ مومن) میں 2018-19 کے دوران رپورٹ ہونے والے 5 ہزار کیسز میں سے 669 کا ڈیٹا دستیاب نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کا مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے، عطاء اللہ تارڑ

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت نے ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد 24 سے بڑھا کر 127 کر دی ہے، جس کے باعث اسکریننگ میں اضافہ ہوا اور کیسز کی نشاندہی زیادہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اسکریننگ اور آگاہی مہم ملک بھر میں جاری ہے اور پروگرام کے فنڈز، نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق تفصیلات آئندہ اجلاس میں فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کے تین لاکھ مریضوں کا تخمینہ مفروضوں پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق گلوبل فنڈ کی 25 فیصد فنڈنگ حکومت کو جبکہ 75 فیصد این جی اوز کو دی جا رہی ہے۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی بھی اسکریننگ کی جائے گی۔

وزیر صحت نے بتایا کہ سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کا ایک بڑا کیس غلط سرنجز کے استعمال سے سامنے آیا، جبکہ کراچی کے علاقے بنارس میں 70 مریضوں کی تشخیص ہوئی، جس پر ڈی جی ہیلتھ کو فوری طور پر روانہ کیا گیا۔

مزید جانیئے: وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام میں شامل ہونے کا آسان طریقہ سامنے آگیا

اجلاس میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس، بجٹ معاملات اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر صحت نے بجٹ میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزارت کو 21 ارب کے بجائے 14 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ حال ہی میں 3 ارب روپے کی اسکیمیں منظور کی گئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل مکمل اور جامع پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے، خصوصاً این جی اوز کو دی جانے والی فنڈنگ اور پروگرام کے عملی نفاذ سے متعلق تفصیلات شامل ہوں۔

editor

Related Articles