امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے دیگر ممالک پر عائد اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز امریکی سپریم کورٹ نے 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ صدر ٹرمپ نے جس قانون کے تحت اضافی ٹیرف نافذ کیے، وہ قانون قومی ایمرجنسی کی صورتحال کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کے تحت اس نوعیت کے ٹیرف عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متعلقہ قانون صدر کو یکطرفہ طور پر وسیع پیمانے پر اضافی تجارتی محصولات عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ عدالتی فیصلہ “انتہائی مایوس کن” ہے اور انہیں عدالت کے چند مخصوص ارکان پر “شرمندگی” محسوس ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک اس فیصلے پر خوش ہیں لیکن “ان کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی”۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں دیگر ممالک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار حاصل ہے، اور ٹیرف سے متعلق متبادل قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود سیکشن 301 کے تحت قومی سلامتی سے متعلق ٹیرف برقرار رہیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا امریکہ کو ٹیرف سے حاصل شدہ رقم واپس کرنا ہوگی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر ممکنہ طور پر قانونی جنگ لڑنا پڑ سکتی ہے۔
مزید جانیئے: غزہ بورڈ آف پیس اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو گلے لگا لیا،غیر رسمی گفتگو بھی کی
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تمام معاہدے برقرار ہیں تاہم طریقہ کار مختلف ہوگا۔ انہوں نے ایران کو بھی “مناسب ڈیل” کے لیے مذاکرات کا مشورہ دیا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل خبردار کر چکے تھے کہ اگر عدالت نے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تو اس کے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف پابندیوں نے بھارت کی نام نہاد خودمختار خارجہ پالیسی بے نقاب کر دی

