پاکستان کی افغانستان میں کارروائی،تباہ کیے گئے مراکز کے نام اور تفصیلات منظر عام پر آگئیں

پاکستان کی افغانستان میں کارروائی،تباہ کیے گئے مراکز کے نام  اور تفصیلات منظر عام پر آگئیں

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ رات انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بڑی کامیاب کارروائی کرتے ہوئےافغانستان  میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جاری انسداد دہشت گردی حکمت عملی کا حصہ تھی جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

 کارروائی کے دوران صوبہ ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں موجود دہشت گرد گروہ ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ عناصر کے7 اہم مراکز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا جبکہ 80 سے زائد خوارج کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی افغانستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی، کن کن دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا اور کون سے اہم کمانڈرز واصل جہنم ہوئے ؟ تمام نام منظرعام پرآگئے

تباہ کیے گئے مراکز میں دہشت گردوں کے تربیتی اور لاجسٹک نیٹ ورک شامل تھے جنہیں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تاکہ مستقبل میں ہونے والی ممکنہ دہشت گردی کو روکا جا سکے۔

کارروائی کے دوران جن مراکز کو تباہ کیا گیا ان میں نیا مرکز نمبر ایک اور نیا مرکز نمبر دو ننگرہار، خارجی مولوی عباس مرکز خوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار، خارجی ابراہیم مرکز ننگرہار، خارجی ملا رہبر مرکز پکتیکا اور خارجی مخلص یار  پکتیکا شامل ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہ فتنہ الخوارج خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے اور اس کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اس سے قبل جن جن دہشتگرد کمانڈروں کو جہنم واصل کیا گیا تھا ان کی تفصیلات سامنے آئی تھیں ،ہلاک دہشتگردو ں میں  پکتیکا صوبہ کے ضلع برمل میں قائم کیمپ الجہاد میں ہلاک ہونے والوں میں احمد خان ولد محمد گاؤں بالا حصار صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، محمد یوسف ولد اسماعیل گاؤں شیرخان صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، عبد اللہ ولد ولی گاؤں کلی حلیم صوبہ بلوچستان پاکستان، سمیع اللہ ولد حمید گاؤں دشت ارچی صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، نور احمد ولد ناصر گاؤں برمل صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان ودیگر  شامل ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *