احسن اقبال نے کہا ہے کہ آج وہی شخص جیل کے اندر بیٹھ کرچیخیں مار رہاہے جس نے مجھے قید کروایا تھا، انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ اس وقت متاثر ہوا جب ایک نا تجربہ کار شخص کو حکومت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال کے دوران عوام کو ترقیاتی منصوبوں کی بجائے صرف گالی گلوچ، الزام تراشی اور سیاسی مخالفین کو چور اور ڈاکو کہنے کا بیانیہ سکھایا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنا کر انہیں جیل میں قید کیا گیا تھا اور آج وہی شخص اسی جیل کے اندر بیٹھ کر چیخیں مارہا ہے جہاں انہیں بند کیا گیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ قید کے دوران اس شخص کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے رشتہ دار ڈاکٹروں نے بھی علاج کی کیفیت کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ ان کے ساتھ ظلم اس وقت ہوا جب انہیں گرفتار کیا گیا جبکہ ان کے بازو کا آپریشن صرف تین دن پہلے ہوا تھا اور اس دوران انہیں فزیوتھراپی کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی ۔
انہوں نے اس واقعے کو اپنے ساتھ زیادتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مخالفین نے انتقامی کارروائیوں کے ذریعے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص سزا کا سامنا کر رہا ہے اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے کیونکہ اس نے ماضی میں دوسروں کے ساتھ ظلم کیا تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود سیاسی انتقامی کارروائیوں سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے قومی سطح پر اتحاد اور مثبت سوچ ضروری ہے۔