اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں سہیل آفریدی کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سول جج عباس شاہ نے مقدمے کی سماعت کے دوران متعلقہ تفتیشی ادارے کو ہدایت کی کہ ملزم کو گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سہیل آفریدی کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام سے متعلق قانون (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم کی جانب سے ریاستی اداروں کے بارے میں گمراہ کن اور متنازع بیانات دیے گئے جن کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ تفتیشی حکام کا مؤقف ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں کیس کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
عدالتی حکم کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کی گرفتاری اور پیشی سے متعلق قانونی کارروائی شروع کر دی ہے تاہم سہیل آفریدی یا ان کے وکلا کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں عدالتیں شواہد اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں اور حتمی ذمہ داری کا تعین عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔
دوسری جانب بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض رہنما سخت سیاسی بیانات کے ذریعے عوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم جب ایسے بیانات قانونی جانچ پڑتال کی زد میں آتے ہیں تو وہ انہیں اظہارِ رائے کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور حلقوں کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔