اسرائیل اور ایران نے ایک ہفتے کیلئے ایک دوسرے کیخلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اتفاق کرلیا، امریکی صدر ٹرمپ

اسرائیل اور ایران نے ایک ہفتے کیلئے ایک دوسرے کیخلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اتفاق کرلیا، امریکی صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران نے کم از کم ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا  کہ نیتن یاہو پر حملہ ہوا، انہوں نے جواب دیا اور میں اس پر انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا، لیکن اب دونوں فریق اپنی کارروائیاں روک چکے ہیں اور ایک ہفتے یا اس کے قریب عرصے کے لیے ایک دوسرے کو تنہا چھوڑ دیں گے۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ایسے معاہدے کے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

یہ بھی پڑھیں :ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، یہ ڈیل امریکا و اتحادیوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی، یہ معاہدہ آئندہ دو سے تین دن میں طے پا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں امریکا اپنے اسٹرٹیجک اہداف حاصل کرنے کے لیے انتہائی مضبوط اور سازگار پوزیشن میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو ہم جنگ کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

ایک خصوصی انٹرویو میں نائب صدر نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے طے شدہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بہترین پوزیشن کا حامل ہے اور تہران پر دباؤ کی حکمت عملی رنگ لا رہی ہے۔

editor

Related Articles