سی ایم ایچ راولاکوٹ پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے حملہ کردیا ،حملے میں تین پولیس اہلکار،ایک فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار شہید، متعددجوان زخمی ہوگئے ہیں ۔
سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ایم ایچ راولا کوٹ حملہ میں اب تک سب انسپکٹر سمیت 4 پولیس اہلکار شہید ہوگئے،20 زخمی سکیورٹی اہلکاروں کو 7.62ممنوعہ بور گولیوں سے نشانہ بنایا گیا
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں تین پولیس اہلکار،ایک فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار شہید ہوگئے ، واقعے میں ایک رینجر اہلکار شہید ہوگیا جبکہ دو پولیس اہلکار اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد جوانوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ایم ایچ راولا کوٹ پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا حملہ، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو کلاشنکوف سے نشانہ بنایا گیا،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سی ایم ایچ راولا کوٹ کے گیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے عوامی ایکشن کمیٹی کی براہ راست فائرنگ سے اپنے اپ کو بچانے کے لیے صرف ہوائی فائر کا استعمال کیا۔
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے، بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق شر پسند عناصر کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ شاہزیب کے جنازے کی آڑ میں ایک منظم اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا،کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے براہِ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر پولیس کے 3 اہلکار اور فیڈرل کانسٹیبلری کا 1 جوان شہید ہو گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 20 سے زائد اہلکار گولیوں کے زخموں کے ساتھ زخمی ہوئے ہیں۔
حملے کا طریقۂ کار اور اس میں استعمال ہونے والی حکمتِ عملی اس امر کو بلا شبہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک پیشگی منصوبہ بند دہشت گرد کارروائی تھی، جس کی منصوبہ بندی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت نے کی اور اسے ان کے مسلح غنڈہ عناصر نے عملی جامہ پہنایا۔
ریاست اس شرپسند اور دہشت گرد گروہ کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائی کرے گی،حملے کے تمام منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ریاستی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی۔
واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے،حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں ،حکام کا کہنا ہے کہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور امن و امان کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
اس واقعہ کےبعد ثابت ہوگیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی ایک دہشت گرد گروہ ہے جسے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور دیگر پاکستان مخالف عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے۔
ریاست کو اب اس گروہ کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں دکھانی چاہیے اور اسے مکمل طاقت کے ساتھ ختم کرنا چاہیے عام تاثر کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام بھی یہ سمجھ چکے ہیں کہ یہ گروہ عوامی حقوق کے لیے نہیں بلکہ کسی بیرونی دشمن ایجنڈے کے تحت کام کر رہا ہے۔
اس گروہ کے مرکزی رہنما چھپے ہوئے ہیں جبکہ غیر شعوری نوجوانوں کو سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے آگے کیا جا رہا ہے،عوام کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ریاست ان رہنماؤں کو تلاش کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے اور انصاف کے مطابق سزا دے۔