سوشل میڈیا کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ’میٹا‘ نے اپنے صارفین کی پرائیویسی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک انقلابی فیچر ’انکوگنیٹو چیٹ‘ متعارف کروانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
میٹا نے یہ فیچر ’انکوگنیٹو چیٹ‘ ان حساس موضوعات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جنہیں صارف دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے۔
حساس معلومات کا مکمل تحفظ
جدید دور میں لوگ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے نہ صرف عام معلومات بلکہ اپنی زندگی کے اہم ترین طبی، مالی اور پیشہ ورانہ معاملات پر بھی مشورے مانگتے ہیں۔
’میٹا‘ کا یہ نیا فیچر ان صارفین کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو اے آئی سے نجی سوالات پوچھتے وقت اپنی معلومات کے لیک ہونے یا ریکارڈ ہونے کے خوف میں رہتے تھے۔ اس فیچر کے فعال ہونے کے بعد، صارف بلا خوف و خطر اپنے مالی اثاثوں یا طبی مسائل پر گفتگو کر سکے گا۔
ٹیکنالوجی کا اعلیٰ معیار
کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سسٹم ’اینڈ ٹو اینڈ انسکرپشن‘ کی طرز پر تیار کیا گیا ہے۔ دیگر ایپس کے عام انکوگنیٹو موڈ کے برعکس، میٹا کا یہ نیا سسٹم ’پرائیویٹ پروسیسنگ ٹیکنالوجی‘ پر مبنی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کے سوالات اور اے آئی کے جوابات ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول میں پروسیس ہوتے ہیں۔ میٹا خود بھی اپنے صارفین کی اس چیٹ تک رسائی حاصل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ گفتگو ختم ہوتے ہی تمام پیغامات سسٹم سے خود بخود غائب (ڈیلیٹ) ہو جاتے ہیں۔
ڈیٹا پرائیویسی اور میٹا کا ماضی
میٹا (سابقہ فیس بک) کو ماضی میں صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے سخت تنقید اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا رہا ہے۔ خاص طور پر ڈیٹا سکینڈلز کے بعد صارفین میں عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوئی تھی۔
اب اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر، میٹا اپنی ساکھ بحال کرنے اور گوگل اور اوپن اے آئی جیسے حریفوں کو مات دینے کے لیے ’پرائیویسی فرسٹ‘ کی پالیسی اپنا رہا ہے۔ یہ نیا فیچر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ صارفین کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ ان کی ڈیجیٹل زندگی اب پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔
کیا یہ فیچر صارفین کا اعتماد بحال کر پائے گا؟
میٹا کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نئے معیار کا تعین کر سکتا ہے۔ ’میٹا خود بھی نہیں دیکھ سکتا‘ کا دعویٰ صارفین کے لیے سب سے بڑا پرکشش نکتہ ہے۔ اگر یہ دعویٰ تکنیکی بنیادوں پر درست ثابت ہوتا ہے تو میٹا اے آئی کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
طبی اور مالیاتی شعبوں کے پیشہ ور افراد جو اب تک ڈیٹا لیک ہونے کے ڈر سے اے آئی کے استعمال سے کتراتے تھے، اب اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ گفتگو کا خود بخود غائب ہونا جہاں پرائیویسی کے لیے اچھا ہے، وہاں یہ صارف کے لیے پرانی معلومات کو دوبارہ دیکھنے میں مشکل بھی پیدا کر سکتا ہے۔