سورج پر ملکیت کا دعویٰ، اسپین کی خاتون کا حیران کن اقدام

سورج پر ملکیت کا دعویٰ، اسپین کی خاتون کا حیران کن اقدام

اسپین کی ایک خاتون نے ایسا دعویٰ کر دیا جس نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی، جب انہوں نے سورج کو اپنی ملکیت قرار دے کر باقاعدہ نوٹری آفس میں رجسٹری کروا دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گالیسیا سے تعلق رکھنے والی ماریہ اینجیلیس ڈوران نے 2010 میں ایک قانونی دستاویز کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ سورج کی مالک ہیں، جو زمین سے تقریباً 149 ملین کلومیٹر دور ایک G2 کلاس ستارہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مہنگائی بے قابو،مرغی اور انڈے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

؎ان کا مؤقف تھا کہ بین الاقوامی قوانین میں اگرچہ حکومتوں کو خلائی اجسام کی ملکیت سے روکا گیا ہے، لیکن انفرادی افراد پر واضح پابندی موجود نہیں، اس لیے انہوں نے اس مبینہ قانونی خلا کو استعمال کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔

ان کے منصوبے کے مطابق وہ سورج کی توانائی استعمال کرنے والوں، سولر پلانٹس اور حتیٰ کہ سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانے والے افراد سے فیس وصول کرنا چاہتی تھیں۔ مجوزہ فارمولے میں آمدنی کی تقسیم کچھ اس طرح رکھی گئی کہ 50 فیصد اسپین حکومت، 20 فیصد پنشن فنڈ، 10 فیصد سائنسی تحقیق، 10 فیصد غربت کے خاتمے اور صرف 10 فیصد خود ان کیلئے۔

یہ بھی پڑھیں :ملٹری طرز گاڑیاں جو عام صارفین بھی آسانی سے خرید سکتے ہیں

تاہم ان کے اس دعوے کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، کیونکہ 1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی کے مطابق خلا اور آسمانی اجسام پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں۔اس واقعے نے عالمی سطح پر دلچسپ بحث چھیڑ دی کہ آخر خلا کے وسائل کس کے ہیں اور کیا مستقبل میں سورج کی روشنی پر بھی کوئی بل آ سکتا ہے۔

editor

Related Articles