ٹرمپ آرگنائزیشن کی جانب سے متعارف کرایا گیا موبائل فون ٹی1 (T1) اسمارٹ فون پہلے اگست میں لانچ ہونا تھا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس کی ریلیز میں تاخیر ہوتی رہی۔
ابتدائی طور پر اس ڈیوائس کو اکتوبر تک موخر کیا گیا، اور بعد میں اسے مزید تاخیر کے بعد اس ہفتے کے لیے شیڈول کیا گیا۔ٹرمپ موبائل کو گزشتہ سال جون میں ایک ٹریڈ مارک لائسنسنگ معاہدے کے تحت لانچ کیا گیا تھا۔
کمپنی کے سی ای او پیٹ اوبرائن کے مطابق اضافی وقت ڈیوائس کی تیاری اور ٹیسٹنگ مکمل کرنے کے لیے لیا گیا تاکہ اس کے پرزہ جات اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمپنی کی ویب سائٹ پر دی گئی محدود معلومات کے مطابق ٹی1(T1)میں درج ذیل فیچرز شامل ہوں گے6.78 انچ ایمولیڈ ڈسپلے،120Hz ریفریش ریٹ نامعلوم اسنیپ ڈریگن چپ سیٹ ،اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم (نام واضح نہیں کیا گیا)اورکیمرہ سیٹ اپ میں شامل ہے۔اس کے علاوہ50 میگا پکسل مین کیمرہ،8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ لینس،50 میگا پکسل 2x ٹیلی فوٹو کیمرہ،50 میگا پکسل فرنٹ سیلفی کیمرہ فیچرز میں شامل ہیں۔
بیٹری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس میں (5000mAh )بیٹری موجود ہوگی جو (30W) فاسٹ چارجنگ کو سپورٹ کرے گی۔دیگر فیچرز میں فنگر پرنٹ سینسر اوراےآئی (AI) فیس ان لاک شامل ہیں۔
ٹرمپ موبائل ایک ورچوئل موبائل نیٹ ورک آپریٹر کے طور پر کام کرتا ہے، جو موجودہ ٹیلی کام نیٹ ورکس کا انفراسٹرکچر استعمال کرتا ہے۔کمپنی نے ایک ماہانہ پلان بھی متعارف کرایا ہے جس کی قیمت 47.45 ڈالر رکھی گئی ہے۔ یہ قیمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 45ویں اور47ویں امریکی صدر کے طور پر شناخت رکھتے ہیں۔