باجوڑ میں پی ٹی آئی کا جلسہ ایک بار پھر ناکام، عوام کی عدم دلچسپی، کارکنوں نے بھی مقامی قیادت کو مسترد کر دیا

باجوڑ میں پی ٹی آئی کا جلسہ ایک بار پھر ناکام، عوام کی عدم دلچسپی، کارکنوں نے بھی مقامی قیادت کو مسترد کر دیا

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے باجوڑ جلسہ ایک بار پھر ناکام ہو گیا ہے، جس میں شرکت کے لیے عوام نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، کرسیاں خالی پڑی رہیں جبکہ جلسے کے دوران اس وقت غیر معمولی صورتحال بھی پیدا ہو گئی جب کارکنوں کی جانب سے اپنی ہی مقامی قیادت کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

جلسہ گاہ میں موجود شرکا نے پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت، خاص طور پر انجینئر اجمل اور سابق رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) گل داد خان کے خلاف اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔

سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی اپڈیٹس کے مطابق، جلسے کے دوران ایک کارکن نے انوکھا احتجاج کرتے ہوئے انجینیئر اجمل اور گل داد خان کی تصاویر والا پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس پر جلی حروف میں ’پبلک ریجیکٹڈ‘ کا واضح پیغام درج تھا۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور ،پی ٹی آئی جلسہ ناکام ، عوام نے (ن) لیگ کے حق میں فیصلہ سنا دیا:عظمیٰ بخاری

یہ منظر نامہ جلسہ گاہ میں موجود دیگر شرکا اور سیاسی مبصرین کے لیے حیران کن تھا، جسے مقامی سطح پر عوامی غصے اور قیادت سے بیزاری کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔  ادھر باجوڑ جرگے میں آئے ہوئے لوگوں کی تذلیل  بھی کی گئی، شرکا کو کرسیوں سے اٹھا کر پیچھے بھیج دیا گیا، جس سے جلسے میں شریک شرکا نے سختی برہمی کا اظہار بھی کیا۔

باجوڑ جلسے میں شامل لوگ سڑکوں پر کہہ رہے ہیں کہ انہیں جلسوں کی ضرورت نہیں، ہم ان تماشوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ساتھ ہی عوام یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا وہ باجوڑ میں افغانستان کے حملے کی وجہ سے شہید ہونے والے 4 بھائیوں کے خاندانوں سے بھی مل رہے ہیں؟ ان داد رسی کر رہے ہیں؟

عوام نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ کے پی کو صوبے کے طور پر ترقی دینے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے، جو کہ کئی محاذوں پر جدوجہد کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ باجوڑ میں پی ٹی آئی کی مقامی صفوں میں پیدا ہونے والا یہ انتشار پارٹی کے لیے آنے والے وقت میں بڑے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ کارکنوں کا الزام ہے کہ مقامی قیادت عوامی مسائل حل کرنے اور ورکرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے میں ناکام رہی ہے، جس کا نتیجہ اس قسم کے احتجاجی مظاہروں کی صورت میں نکل رہا ہے۔

اپریل 2026 کے ان حالات میں جہاں دیگر سیاسی جماعتیں متحرک ہو رہی ہیں، پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات پارٹی کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کی جانب سے اس احتجاج پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

باجوڑ تاریخی طور پر تحریکِ انصاف کا مضبوط گڑھ رہا ہے، تاہم گزشتہ چند عرصہ سے ترقیاتی کاموں اور پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر مقامی کارکنوں اور سابقہ نمائندگان کے درمیان خلیج پیدا ہوئی ہے۔

گل داد خان اور انجینیئر اجمل پر پارٹی کے پرانے ورکرز کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ حالیہ جلسہ جو کہ عوامی طاقت دکھانے کے لیے منعقد کیا گیا تھا، قیادت کے خلاف عوامی ریفرنڈم میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *