برطانیہ میں ریکارڈ توڑ گرمی اور خشک موسم کے باعث پانی کی فراہمی کا بحران شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہریوں کو پانی کی قلت اور کم پریشر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انگلینڈ کے بعض علاقوں میں شدید گرمی کے دوران پانی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ کم بارشوں اور پرانے آبی ڈھانچے کے باعث سپلائی کا نظام دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
جنوب مشرقی انگلینڈ میں گرمی کی حالیہ لہر کے دوران ہزاروں گھروں کو پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ بعض علاقوں میں پانی مکمل طور پر بند رہا جبکہ کئی مقامات پر صارفین کو انتہائی کم پریشر کے ساتھ پانی ملا۔ حکام کے مطابق 20 ہزار سے زائد افراد اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔
ساحلی قصبے وائٹ سٹیبل میں صورتحال زیادہ سنگین رہی جہاں تقریباً 8 ہزار افراد پانی کی سپلائی سے محروم ہو گئے۔ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو ہنگامی بنیادوں پر فراہم کیے جانے والے پانی کے حصول کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا۔
ساؤتھ ایسٹ واٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث پانی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے نظام پر اضافی دباؤ پڑا۔ جمعہ کے روز متعدد مقامات پر شہری ایمرجنسی پانی حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے رہے۔
ماحولیاتی اداروں کے مطابق برطانیہ سمیت یورپ کے کئی حصے گزشتہ ہفتوں سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ مارچ اور اپریل میں معمول سے کم بارشوں کے باعث بعض آبی ذخائر بھی متاثر ہوئے، جس نے پانی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔
دوسری جانب نجی پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں پر تنقید بھی بڑھ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں آبی نیٹ ورکس کی بہتری اور انفراسٹرکچر میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث موجودہ بحران نے جنم لیا۔ پانی کی قلت کے سبب بعض کاروباری مراکز اور خدمات بھی متاثر ہوئیں، جبکہ اسکولوں کی تعطیلات کے دوران سیاحتی علاقوں میں مشکلات مزید بڑھ گئیں۔