حکام کے مطابق سرکاری افسران کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے بھر کے انتظامی اداروں، پولیس اور فیلڈ فارمیشنز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ سائبر مجرم افسران کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر کے ان کے کانٹیکٹس کو جعلی پیغامات بھیجتے ہیں۔ زیادہ تر پیغامات میں فوری مالی مدد مانگی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو دھوکا دے کر رقم حاصل کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فراڈیے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز سے حاصل کردہ معلومات جیسے نام، عہدہ اور تصاویر استعمال کر کے جعلی شناخت بناتے ہیں جو بظاہر مکمل طور پر حقیقی لگتی ہے۔ اسی وجہ سے ایسے فراڈ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ داخلہ نے تمام اداروں کو ہدایت دی ہے کہ سکیورٹی مزید سخت کی جائے، مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے، اور کسی بھی غیر معمولی پیغام یا مالی درخواست پر عمل کرنے سے پہلے لازمی تصدیق کی جائے۔