وزیراعظم شہباز شریف کے ہرجانہ مقدمے میں بانی تحریکِ انصاف کو بڑی قانونی کامیابی مل گئی

وزیراعظم شہباز شریف کے ہرجانہ مقدمے میں بانی تحریکِ انصاف کو بڑی قانونی کامیابی مل گئی

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر کیے گئے دس ارب روپے کے ہرجانے کے مقدمے میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف کو اہم قانونی کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کی نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کا حقِ دفاع بحال کر دیا ہے، جس کے بعد مقدمے کی آئندہ کارروائی میں وہ اپنے مؤقف اور دلائل عدالت کے سامنے پیش کر سکیں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا،عدالتِ عظمیٰ نے دو کے مقابلے میں ایک جج کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے ٹرائل عدالت اور ہائی عدالت کے وہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے جن کے تحت بانی تحریکِ انصاف کا حقِ دفاع ختم کیا گیا تھا۔

عدالت کی سربراہ جسٹس عائشہ ملک نے مختصر فیصلہ عدالت میں سنایا۔ فیصلے کے مطابق بانی تحریکِ انصاف کو اپنے دفاع کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا اور اس حوالے سے معاملہ دوبارہ متعلقہ ٹرائل عدالت کو بھجوا دیا گیا ہے،اب ٹرائل عدالت مقدمے کی کارروائی کو قانون کے مطابق آگے بڑھائے گی اور فریقین کو اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :عمران خان کے خلاف ہتک عزت کیس میں وزیراعظم شہبازشریف کی ویڈیو لنک پیشی،  دوران سماعت بجلی کا بریک ڈاؤن

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مقدمے کی آئندہ سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے نزدیک کسی بھی فریق کو اپنا دفاع پیش کرنے کے حق سے محروم کرنا ایک غیر معمولی اقدام تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حقِ دفاع بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بانی تحریکِ انصاف کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ اس مقدمے کے دوران مختلف عدالتی مراحل میں کئی قانونی نکات زیرِ بحث آئے، جن میں حقِ دفاع کا معاملہ بھی شامل تھا۔

بعد ازاں بانی تحریکِ انصاف نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست دائر کی، جس پر سماعت کے بعد عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔

سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد یہ مقدمہ ایک بار پھر ٹرائل عدالت میں زیرِ سماعت ہوگا، جہاں دونوں فریق اپنے شواہد، دلائل اور قانونی مؤقف پیش کریں گے۔

editor

Related Articles