حکومت کا انٹرنیٹ سروس سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آگیا

حکومت کا انٹرنیٹ سروس سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آگیا

حکومت پنجاب نے صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو جدید دنیا سے جوڑنے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس متعارف کرانے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ اعلان وزیراعلیٰ پنجاب کی سینیئر ایڈوائزر اور مسلم لیگ (ن) کی رہنما سینیٹر انوشہ رحمان نے لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں منعقدہ ‘لیڈرشپ سمٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس میں بلاک چین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اثاثوں اور مستقبل کی آئی ٹی ضروریات پر ماہرین نے تفصیلی گفتگو کی۔ انوشہ رحمان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ حکومت پنجاب ’کنیکٹ دی آن کنیکٹڈ‘ مشن پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت ان علاقوں تک رسائی حاصل کی جائے گی جہاں روایتی فائبر آپٹک یا کیبل انٹرنیٹ پہنچانا ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیزل بحران سے انٹرنیٹ سروسز متاثر، ملک بھر میں لاکھوں صارفین مشکلات کا شکار

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے ذریعے ہر گاؤں، اسکول، کالج اور اسپتال کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے لیس کیا جائے گا تاکہ دور افتادہ علاقوں کے عوام بھی وہی سہولیات حاصل کر سکیں جو بڑے شہروں کو میسر ہیں۔

سینیٹر انوشہ رحمان نے ایک بڑے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئندہ 4 برسوں میں 60 لاکھ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا شوق تو موجود ہے مگر بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی کمی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جسے اب سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے دور کیا جائے گا۔

پنجاب میں انٹرنیٹ کی صورتحال

پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت پنجاب میں آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر ہے، تاہم جنوبی پنجاب اور چولستان جیسے دور دراز علاقوں میں آج بھی انٹرنیٹ کی رفتار اور دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ماضی میں ’لیپ ٹاپ اسکیم‘ اور ’ای روزگار‘ جیسے منصوبوں نے نوجوانوں میں فری لانسنگ کا شعور بیدار کیا، لیکن انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے دیہی علاقوں کے نوجوان ان مواقع سے فائدہ اٹھانے میں پیچھے رہ گئے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں سست انٹرنیٹ پر بڑا ایکشن، پی ٹی اے کی سروس بہتر بنانے کی ہدایت

اب عالمی سطح پر ’اسٹار لنک‘ جیسی سیٹلائٹ سروسز کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے بھی اسی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جغرافیائی رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور مستقبل کے چیلنجز

پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ صوبے کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے فوائد اور چیلنجز  ضرور ہیں لیکن  اسکولوں اور اسپتالوں کو سیٹلائٹ سے جوڑنے کا مطلب ہے کہ اب لاہور کا ماہر ڈاکٹر کسی دور دراز گاؤں کے مریض کا ‘ٹیلی میڈیسن’ کے ذریعے معائنہ کر سکے گا اور دیہی طلبہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے آن لائن کورسز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

آئندہ 4 برسوں میں 60 لاکھ نوجوانوں کو ڈیجیٹلائز کرنا ایک پرجوش ہدف ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ ملک میں ’آئی ٹی برآمدات‘ (ایکسپورٹس) میں بھی اربوں ڈالرز کا اضافہ ہوگا۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ عموماً مہنگا ہوتا ہے۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اسے پسماندہ علاقوں کے عوام کے لیے سستا اور قابل رسائی بنائے تاکہ یہ سہولت صرف کاغذی منصوبوں تک محدود نہ رہے۔

Related Articles