جوائنٹ فورسز راولاکوٹ میں بند راستے کھلوانے کی کوشش، شرپسند عناصر کی فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ، انتظامیہ پونچھ ڈویژن

جوائنٹ فورسز راولاکوٹ میں بند راستے کھلوانے  کی کوشش، شرپسند عناصر کی فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ، انتظامیہ پونچھ ڈویژن

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولاکوٹ اور گردونواح کے بازاروں کو ملانے والی اہم شاہراہوں پر درخت گرا کر، رکاوٹیں کھڑی کر کے اور پتھر رکھ کر راستے بند کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث علاقے میں غذائی قلت کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

  پونچھ ڈویژن انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان  کے مطابق تمام اہم سڑکیں بند ہونے کے باعث اشیائے خورد و نوش کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ ڈرائیور شرپسند عناصر کے رویے کے باعث سامان لے جانے سے گریز کر رہے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق  جوائنٹ فورسز نے باغ، راولاکوٹ روڈ کو بحال کرنے کے لیے سڑکوں سے درخت اور دیگر رکاوٹیں ہٹانے کا آپریشن شروع کیا، تاہم کوماواں کے مقام پر موجود مسلح افراد نے فورسز پر فائرنگ کر دی۔ انتظامیہ کے مطابق حملہ آوروں نے سڑکوں کے اطراف میں مورچے قائم کر رکھے تھے اور جدید اسلحہ استعمال کیا، جبکہ عوام کو مشتعل کرنے کے لیے اعلانات بھی کیے گئے۔ فورسز پر پتھراؤ کر کے ان کا راستہ روکنے کی بھی کوشش کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک ماہ سے مختلف راستے بند کر رکھے تھے، پورے گاؤں کو یرغمال بنایا ہوا تھا اور بعض سرکاری و عوامی عمارتوں پر بھی قبضہ کر رکھا تھا۔ پریس ریلیز کے مطابق انہی اقدامات کے باعث عام شہریوں تک خوراک کی فراہمی متاثر ہوئی، جبکہ پانچ مختلف مقامات پر مسلح جتھے موجود ہیں جن میں باغ، راولاکوٹ روڈ سب سے زیادہ متاثر ہے۔

انتظامیہ نے بتایا کہ کوہالہ روٹ کے ذریعے ٹرانسپورٹرز کو اشیائے خورد و نوش کی ترسیل کی اجازت دی جا رہی ہے اور دیگر بند راستے بھی مرحلہ وار کھولے جائیں گے تاکہ معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:زیارت میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کیخلاف سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، 15 دہشتگرد جہنم واصل

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ  بعض عناصر خود کو پرامن دھرنے کے شرکاء ظاہر کر کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ مسلح ہیں اور راولپنڈی، راولاکوٹ شاہراہ اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں مختلف ہتھیاروں کے ساتھ پوزیشنیں سنبھالے ہوئے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ان کی معاونت یا سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کو حقوق کے نام پر گمراہ کر کے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ آزاد کشمیر کو پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر معیارِ زندگی رکھنے والا خطہ قرار دیا گیا ہے۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران لانگ مارچ، سڑکوں کی بندش اور احتجاجی سرگرمیوں کے باعث سیاحت، کاروبار اور سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ سرکاری املاک کو نقصان، فورسز پر حملوں اور دیگر پرتشدد واقعات نے امن و امان کی صورتحال کو متاثر کیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عبرتناک شکست، فتنہ الہندوستان دہشتگردوں کی جعفر ایکسپریس کے بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی ناکام

انتظامیہ نے واضح کیا کہ جوائنٹ فورسز سڑکیں کھلوانے اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی مقامی اور قومی میڈیا سے اپیل کی گئی ہے کہ حقائق کی تصدیق کے بغیر کسی بھی فریق کو مظلوم یا بے گناہ قرار نہ دیا جائے، جبکہ عوام کو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Related Articles