چیٹ جی پی ٹی آپ کی شخصیت بھی پڑھ رہا ہے

چیٹ جی پی ٹی آپ کی شخصیت بھی پڑھ رہا ہے

دنیا بھر میں روزانہ استعمال ہونے والے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز جیسے چیٹ جی پی ٹی اور دیگر لینگویج ماڈلز نہ صرف سوالات کے جواب دیتے ہیں بلکہ صارفین کے بارے میں گہری معلومات بھی اخذ کر سکتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کی معروف جامعہ ای ٹی ایچ زیورخ کے محققین نے ایک تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا لوگوں کی چیٹ ہسٹری سے ان کی شخصیت کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تحقیق کے نتائج نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں  :پلوٹو سے آگےکی دنیا، خلا میں حیران کن دریافت

مطالعے کے مطابق، مصنوعی ذہانت صارفین کی گفتگو کی بنیاد پر ان کی شخصیت کی پانچ بڑی خصوصیات، جنہیں ’بگ فائیو‘ کہا جاتا ہے، خاصی حد تک درست انداز میں پہچان سکتی ہے۔ ان میں ملنساری ، نرم مزاجی، ذمہ داری، جذباتی استحکام اور نئے تجربات کے لیے کھلا پن  شامل ہیں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف نوئے زفری کے مطابق اس مطالعے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ لوگ جب اےآئی سے بات کرتے ہیں تو وہ کتنی ذاتی معلومات ظاہر کر دیتے ہیں اور ان معلومات سے ان کی شخصیت کا اندازہ کس حد تک لگایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کیا اےآئی مستقبل کے بڑے بحرانوں کی پیشگوئی کر سکتی ہے؟

محققین نے 668 صارفین کی چیٹ ہسٹری کا جائزہ لیا جس میں تقریباً 62 ہزار گفتگوئیں شامل تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان افراد سے نفسیاتی ٹیسٹ بھی لیا گیا تاکہ اصل شخصیت کا موازنہ کیا جا سکے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بعض خصوصیات جیسے ملنساری اور جذباتی کیفیت کا اندازہ اےآئی زیادہ درست طریقے سے لگا سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ صارف جس نوعیت کی گفتگو کرتا ہےاسی کے مطابق اس کی شخصیت کے مختلف پہلو زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، تعلقات کے بارے میں بات کرنے والے افراد کی ملنساری جبکہ مذہب پر گفتگو کرنے والوں کی ذمہ داری کی سطح زیادہ آسانی سے معلوم کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کروم صارفین ہوشیار! گوگل کی بڑی سکیورٹی اپ ڈیٹ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر نگرانی، پروفائلنگ اور حتیٰ کہ پروپیگنڈا مہمات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر جب صارفین اےآئی کو ایک دوست، مشیر یا رہنما کے طور پر استعمال کرنے لگیں تو وہ غیر محسوس طریقے سے اپنی ذاتی معلومات زیادہ شیئر کرنے لگتے ہیں۔

تحقیق میں ’’کاغنیٹو سرنڈر‘‘ یعنی ذہنی انحصار کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں لوگ اپنی رائے بنانے کے بجائے اےآئی پر زیادہ بھروسہ کرنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :آئی فون کی فروخت پر اثر، ایپل کو سپلائی چیلنجز کا سامنا

ماہرین کے مطابق اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اےآئی کے استعمال کے ساتھ پرائیویسی اور سیکیورٹی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ مستقبل میں ایسے ٹولز اور سسٹمز بنانے کی ضرورت ہے جو صارفین کی معلومات کو محفوظ رکھ سکیں اور انہیں غیر ضروری پروفائلنگ سے بچا سکیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں وہ مزید ایسے خطرات کا جائزہ لیں گے اور ایسے حل تلاش کریں گے جو صارفین کی رازداری کو بہتر بنا سکیں۔

editor

Related Articles