40سال بعدنیا وائی-زِپر دنیا بدلنے کو تیار، چیزیں لمحوں میں نرم سے سخت

40سال بعدنیا وائی-زِپر دنیا بدلنے کو تیار، چیزیں لمحوں میں نرم سے سخت

دنیا بھر میں استعمال ہونے والا سادہ زِپر اب ایک نئی شکل میں سامنے آیا ہے جو مستقبل کی ٹیکنالوجی کو بدل سکتا ہے۔ امریکی جامعہ ایم آئی ٹی کے محققین نے ایک منفرد ’وائی-زِپر‘ تیار کیا ہے، جو اشیاء کو نرم اور سخت حالت کے درمیان فوری طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس انوکھے تصور کی بنیاد 1985 میں رکھی گئی تھی جب ایک انجینئر نے تین اطراف والا زِپر ڈیزائن کیا، تاہم اس وقت یہ آئیڈیا مسترد کر دیا گیا۔ اب تقریباً 40 سال بعد، جدید تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس خیال کو حقیقت میں بدل دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کیا اےآئی مستقبل کے بڑے بحرانوں کی پیشگوئی کر سکتی ہے؟

محققین کے مطابق وائی-زِپر عام زِپر کی طرح صرف بند کرنے کا کام نہیں کرتا بلکہ یہ مختلف اشیاء کی ساخت کو بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ جب یہ کھلا ہو تو لچکدار اور نرم رہتا ہے، جبکہ بند ہونے پر ایک مضبوط اور سخت شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کئی شعبوں میں انقلاب لا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کیمپنگ کے دوران خیمہ لگانے کا عمل جو عام طور پر کئی منٹ لیتا ہے، وائی-زِپر کی مدد سے چند لمحوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح طبی شعبے میں اسے پلاسٹر یا سپورٹ ڈیوائسز میں استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ مریض اپنی ضرورت کے مطابق سختی یا نرمی کو ایڈجسٹ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں :کروم صارفین ہوشیار! گوگل کی بڑی سکیورٹی اپ ڈیٹ

محققین نے اس زِپر کو روبوٹکس میں بھی آزمایا، جہاں روبوٹ اپنے جسم کی ساخت کو بدل کر مختلف سطحوں پر بہتر طریقے سے حرکت کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسے آرٹ انسٹالیشنز میں بھی استعمال کیا گیا جہاں ایک مصنوعی پھول زِپر کے ذریعے کھلتا اور بند ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

تحقیق کے دوران اس ڈیوائس کی مضبوطی کو بھی جانچا گیا۔ ماہرین کے مطابق وائی-زِپر ہزاروں بار کھلنے اور بند ہونے کے باوجود مؤثر طریقے سے کام کرتا رہا، جس سے اس کی پائیداری ثابت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کہکشاں کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ سائنسدانوں کا بڑا انکشاف

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط مواد سے تیار کیا جا سکتا ہے اور اسے خلائی تحقیق، ہنگامی امداد اور دیگر اہم شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک عام سی چیز کو نئے انداز میں استعمال کر کے بڑی سائنسی پیش رفت حاصل کی جا سکتی ہے۔

editor

Related Articles