پی ٹی اے کابڑا اقدام ، دورانِ پرواز انٹرنیٹ سروس کیلئے نیا فریم ورک جاری

پی ٹی اے کابڑا اقدام ، دورانِ پرواز انٹرنیٹ سروس کیلئے نیا فریم ورک جاری

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے فضائی سفر کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی فراہمی کے لیے اِن فلائٹ ٹیلی کمیونیکیشن سیٹلائٹ آئ ٹی ایس(ITS) سروسز کا نیا ڈرافٹ لائسنس فریم ورک جاری کر دیا۔ مجوزہ پالیسی کا مقصد پاکستان میں پروازوں کے دوران براڈ بینڈ اور سیلولر سروسز کو باقاعدہ ریگولیٹ کرنا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ڈرافٹ کے مطابق ملکی اور بین الاقوامی پروازوں میں مسافروں کو دورانِ سفر انٹرنیٹ اور موبائل کنیکٹیویٹی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو نان ایکسکلیوسیو بنیادوں پر لائسنس جاری کیے جائیں گے، جس کے تحت ایک سے زائد کمپنیاں مارکیٹ میں خدمات فراہم کرسکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں :مریخ پر شہر بساؤ، تب ہی اربوں کے شیئرز پاؤ، سپیس ایکس کا نیا چیلنج

فریم ورک کے مطابق مسافروں کو پرواز کے دوران براڈ بینڈ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز دستیاب ہوں گی، تاہم سیلولر سروس صرف اس وقت فعال ہوگی جب طیارہ 3 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر پرواز کر رہا ہو۔

ڈرافٹ میں یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ تمام آپریٹرز رجسٹرڈ سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ شراکت داری کریں گے اور پاکستان کے لائسنس یافتہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے ذریعے خدمات فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں :پلوٹو سے آگےکی دنیا، خلا میں حیران کن دریافت

پی ٹی اے کے مطابق لائسنس کی مدت 10 سال ہوگی، جس میں ریگولیٹری منظوری کے بعد توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کو ابتدائی طور پر 10 ہزار امریکی ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی، جبکہ اسپیکٹرم فیس کو وقتاً فوقتاً عالمی معیار کے مطابق تبدیل کیا جاسکے گا۔

مجوزہ پالیسی کے تحت کمپنیوں کو پاکستان میں مقامی گیٹ وے انفراسٹرکچر قائم کرنا ہوگا اور تمام ڈیٹا ٹریفک کو ملکی نظام کے ذریعے منتقل کرنا لازمی ہوگا تاکہ قومی ڈیٹا قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں :زمین کے قریب ’فرضی چاند‘ کی دلچسپ حقیقت

فریم ورک میں سخت مانیٹرنگ اور سیکیورٹی شرائط بھی شامل کی گئی ہیں۔ آپریٹرز کو قومی اور بین الاقوامی ایوی ایشن و ٹیلی کام اداروں کے طے کردہ تکنیکی معیار پر عمل کرنا ہوگا اور صارفین کو معیاری سروس فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

پی ٹی اے نے مجوزہ قواعد میں لا فل انٹرسیپشن اور مانیٹرنگ سسٹمز کی تنصیب کو بھی لازمی قرار دیا ہے، جبکہ حساس انفراسٹرکچر پر غیر ملکی کنٹرول کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ کسی بھی سروس تعطل کی صورت میں فوری رپورٹنگ اور مسئلے کے حل کو یقینی بنانا ہوگا۔

editor

Related Articles