پاکستان میں آج چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں فی تولہ چاندی کا نرخ8 ہزار191روپے تک پہنچ گیا ہے، یہ اضافہ عالمی قیمتی دھاتوں کے رجحانات اور مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب کے باعث مسلسل مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ میں چاندی اپنی حالیہ مثبت رفتار کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور اسے عالمی اشاروں کے مطابق تیزی سے ردعمل دینے والی دھات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی سطح پر چاندی کی قیمتیں دس گرام کے لیے7 ہزار 21 روپے اور فی گرام 702 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی ہیں، یہ رجحان عالمی فوری نرخوں میں سرگرمی اور سونے کے ساتھ اس کے مضبوط تعلق کی وجہ سے سامنے آیا ہے، چاندی کو موجودہ معاشی حالات میں ایک محفوظ سرمایہ کاری اور صنعتی طور پر اہم دھات کے طور پر توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
اس مضبوطی کا تعلق سونے کی مستحکم صورتحال سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جہاں چوبیس قیراط سونے کی مقامی قیمت فی تولہ پانچ لاکھ دس ہزار روپے سے زائد سطح پر مستحکم ہے،قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں عالمی مارکیٹ میں چاندی کی مضبوط کارکردگی، سونے کے ساتھ اس کا گہرا تعلق اور صنعتی طلب میں تسلسل شامل ہیں۔
چاندی شمسی توانائی کے پینلز، برقی گاڑیوں، برقی آلات اور صاف توانائی کے شعبوں میں اہم استعمال رکھتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی طلب مسلسل برقرار رہتی ہے اور قیمتوں کو سہارا ملتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی خریداروں اور صرافہ بازاروں کی سرگرمی بھی اس رجحان کو تقویت دے رہی ہے، جہاں چاندی کو مہنگائی سے بچاؤ اور سونے کے مقابلے میں نسبتاً سستی قیمتی دھات کے طور پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
چاندی کی قیمتیں اگرچہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں اس کا مجموعی رجحان مثبت اور مستحکم دکھائی دے رہا ہے، جس کی بنیاد سرمایہ کاری کی کشش اور صنعتی استعمال پر ہے۔
خریداروں اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی لین دین سے قبل صرافہ بازار کے تازہ نرخ ضرور چیک کریں، کیونکہ قیمتیں عالمی اور مقامی حالات کے مطابق تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہیں۔