گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے صوبائی موٹر وہیکل ترمیمی بل 2026 پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد ٹریفک قوانین کے تحت عائد کئی سخت سزاؤں میں نمایاں نرمی کر دی گئی ہے جبکہ متعدد جرائم پر قید کی سزائیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
نئے قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی صوبائی موٹر وہیکل ترمیمی آرڈیننس 2025 منسوخ ہو گیا ہے، ترمیمی بل کے تحت مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں میں کمی کی گئی ہے تاکہ عوام، خصوصاً غریب افراد، موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیوروں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے اور عوام پہلے ہی مہنگائی سے شدید متاثر ہیں، اس صورتحال میں ٹریفک قوانین کی مد میں اضافی جرمانے مناسب نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ پرانے آرڈیننس میں معمولی خلاف ورزیوں پر بھی بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں شامل تھیں، جو غریب طبقے کے لیے بڑا بوجھ بن رہی تھیں، نئے بل کے ذریعے ان سزاؤں اور جرمانوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
نئے قانون کے مطابق لائسنس سے متعلق خلاف ورزی پر پہلے پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا رکھی گئی تھی، تاہم اب یہ جرمانہ کم کر کے پانچ ہزار سے دس ہزار روپے کر دیا گیا ہے جبکہ قید کی سزا مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ون وے کی خلاف ورزی پر پہلے چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی تھیں، لیکن اب صرف پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا اور قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔
صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے تحت ڈرائیونگ لائسنس، غلط سمت میں گاڑی چلانے، عمر کی حد کی خلاف ورزی، فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی استعمال کرنے اور اوور لوڈنگ جیسے جرائم میں پہلے سے موجود لاکھوں روپے کے جرمانے اور قید کی سزاؤں کو کم یا ختم کر دیا گیا ہے۔
عمر کی حد کی خلاف ورزی پر پہلے چھ ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا تھی، تاہم نئے قانون کے تحت صرف دس ہزار روپے جرمانہ ہوگا، ایسی صورت میں گاڑی ضبط کر کے کسی ایسے مالک یا مجاز شخص کے حوالے کی جائے گی جو ڈرائیونگ لائسنس رکھنے کا اہل ہو۔
بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر پہلے چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے جرمانہ جبکہ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں دو سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانے کی دفعات موجود تھیں، لیکن اب نئے قانون میں صرف پانچ ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے۔ ایسی گاڑی کو صرف انسپیکشن اسٹیشن تک چلانے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح پبلک سروس گاڑیوں میں حد سے زائد مسافر بٹھانے پر پہلے چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا تھی، تاہم نئے بل کے مطابق اب صرف پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا، خاص طور پر گاڑیوں کی چھتوں پر سفر کرنے والے یا اطراف سے لٹکنے والے مسافروں کے معاملے میں یہ قانون لاگو ہوگا۔
نئے ترمیمی بل کو عوامی ریلیف کے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے عام شہریوں پر مالی بوجھ میں کمی آئے گی۔