امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر بھیجا گیا جواب مسترد کر دیا ، انہوں نےکہا کہ ایران کی جانب سے بھیجا گیا مسودہ ناقابل قبول ہے
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ’ایران کے نام نہاد نمائندوںکی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہےجو قابل قبول نہیں ۔
یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی پیشکش پر ایران کی جانب سے دیے گئے جواب کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔یہ جواب پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔
امریکی صدر نے ردعمل میں کہا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کا موجودہ جواب خطے میں پائیدار امن اور اعتماد سازی کے لیے ناکافی ہے۔
اس سے قبل واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم ملبے تلے دبا ہوا ہے، امریکا کسی بھی وقت وہاں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں مکمل طور پر ختم ہوچکی ہیں۔ ایران میں اب بھی کئی اہم اہداف موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر امریکا دوبارہ حملے کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو امریکا آئندہ دو ہفتوں تک بھی ایران پر کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔