ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کیساتھ جاری سفارتی مذاکرات کا مقصد قومی مفادات اور حقوق کا دفاع کرنا ہے نہ کہ کسی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔
تہران میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی دشمن کے سامنے جھکنے کی پالیسی اختیار نہیں کرے گا اور سفارتی کوششوں کا اصل مقصد ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ عزت، خودمختاری اور قومی مفادات کو ترجیح دی، اسی لیے مذاکرات کو کمزوری نہیں بلکہ قومی حقوق کی جنگ سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے سامنے جھکنا ایرانی قوم کی تاریخ اور روایت کا حصہ نہیں جبکہ تمام سفارتی اقدامات ایرانی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی مبینہ غیرقانونی ناکہ بندی پر بھی شدید اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی ہوچکی ہے تو پھر بندرگاہوں پر پابندیاں اور ناکہ بندی جاری رکھنا وعدہ خلافی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات خطے میں اعتماد سازی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز کے گرد جنگی جہازوں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہرمز میں عسکری موجودگی بحران کو کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دے گی۔
ایرانی قیادت کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں تاہم دونوں جانب سے سخت مؤقف اختیار کیے جانے کے باعث صورتحال اب بھی حساس تصور کی جا رہی ہے۔