بلیوٹوتھ کا نام کہاں سے آیا؟ ایک بادشاہ سے ٹیکنالوجی تک دلچسپ سفر

بلیوٹوتھ کا نام کہاں سے آیا؟ ایک بادشاہ سے ٹیکنالوجی تک دلچسپ سفر

دنیا بھر میں روزمرہ استعمال ہونے والی وائرلیس ٹیکنالوجی بلیو ٹوتھ کے نام کے پیچھے ایک حیران کن تاریخی کہانی چھپی ہوئی ہے جس کا تعلق کسی جدید سائنسی اصطلاح سے نہیں بلکہ ایک قدیم بادشاہ سے جڑا ہوا ہے۔

اس نام کی بنیاد دسویں صدی کے اسکینڈینیوین حکمران ہیرلڈ بلیو ٹوتھ سے منسوب کی جاتی ہے، جنہوں نے ڈنمارک اور ناروے کے مختلف قبائل کو ایک حکومت کے تحت متحد کیا تھا۔ٹیکنالوجی کے ڈویلپرز کے مطابق بلیو ٹوتھ کا تصور بھی اسی اتحاد سے لیا گیا، جہاں مقصد مختلف ڈیوائسز جیسے موبائل، کمپیوٹر اور دیگر آلات کو ایک ہی وائرلیس نظام کے ذریعے آپس میں جوڑنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :گیس کی لوڈشیڈنگ کا متبادل؟ پانی سے چلنے والا ہائیڈروجن چولہا متعارف

تاریخی روایات کے مطابق بادشاہ ہیرالڈ کو ’بلیوٹوتھ‘ اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ ان کے دانت کا رنگ گہرا نیلا یا سرمئی ہو گیا تھا، جبکہ کچھ روایات میں ان کی نیلی بیریز کی پسند کو بھی اس نام سے جوڑا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چین کی خطرناک ترین پہاڑی سڑک، 18 ہیئرپن موڑ ڈرائیوروں کے لیے امتحان

بیو ٹوتھ کا مشہور لوگو بھی اسی تاریخ سے جڑا ہوا ہے، جو قدیم اسکینڈینیوین رنز (Runes) حروف ایچ (H) اوربی (B)کو ملا کر بنایا گیا ہے، جو بادشاہ کے نام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ صرف ایک عارضی کوڈ نیم تھا، تاہم جب حتمی نام پر قانونی اور برانڈنگ مسائل سامنے آئے تو ڈویلپرز نے یہی نام برقرار رکھا، جو بعد میں دنیا کی سب سے معروف وائرلیس ٹیکنالوجی بن گیا۔مختصر یہ کہ بلیو ٹوتھ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ’اتحاد‘ کی علامت ہے، جو آج بھی اسی تصور کے ساتھ دنیا بھر کے آلات کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہے۔

editor

Related Articles