یونان کے جزیرے کریٹ میں واقع وووس کا زیتون کا درخت دنیا کے قدیم ترین اور حیران کن قدرتی عجوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو آج بھی پھل دے رہا ہے۔یونیورسٹی آف کریٹ کے سائنسدانوں کے مطابق اس درخت کی عمر تقریباً 4 ہزار سال ہے، یعنی یہ اس دور کا ہے جب زمین پر آخری میمتھ موجود تھے اور انسانی تہذیبیں ابتدائی ترقی کے مراحل میں تھیں۔
تاریخی ماہرین کے مطابق اسی زمانے میں چین میں کانسی کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی تھی جبکہ مصر کی قدیم تہذیب کے کئی حصے زوال پذیر ہو رہے تھے۔ اسی عرصے میں کریٹ بھول بھلیاں نما محل (منوون سولیزیشن) اپنے عروج پر تھی۔
اسی خطے میں کنوسوس پلیس کی ابتدائی بنیادیں بھی رکھی گئیں، جس کا تعلق یونانی اساطیر میں مشہوربیل نما دیو(Minotaur) کی کہانی سے جوڑا جاتا ہے۔یہ درخت انسانی تاریخ کے ہزاروں سالوں کا گواہ ہے، جس نے کانسی کے دور سے لے کر جدید دور تک انسانوں کی ترقی، جنگیں، تہذیبیں اور تبدیلیاں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی طویل عمر کے باوجود یہ درخت آج بھی ہر موسم میں پھل دیتا ہے، جیسے وقت رک گیا ہو مگر قدرت نے اسے زندگی جاری رکھنے کی طاقت دے رکھی ہو۔ قدرت کا یہ شاہکار اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زمین پر کچھ چیزیں وقت سے بھی زیادہ مضبوط اور دیرپا ہوتی ہیں۔