پاکستان کی مؤثر سفارت کاری سے بھارت و اسرائیل پریشان، عالمی میڈیا پر پروپیگنڈا مہم تیز

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری سے بھارت و اسرائیل پریشان، عالمی میڈیا پر پروپیگنڈا مہم تیز

ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں پاکستان کے فعال اور اصولی ثالثی کردار نے بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی میں سفارتی و دفاعی کامیابی کے بعد پاکستان نے عالمی فورمز بشمول اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اپنا لوہا منوایا ہے، جسے عالمی برادری نے تسلیم بھی کیا ہے۔

تاہم پاکستان کے اس بڑھتے ہوئے قد کاٹھ اور فلسطین کے حق میں غیر متزلزل مؤقف نے اسرائیل اور بھارت کو ایک پیج پر لا کھڑا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا جنگ بندی کو ممکن بنانے کیلئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ، شہباز شریف

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی میڈیا پر پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ’بوٹ فارمز‘ کے ذریعے امریکا اسرائیل تعلقات خراب کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس (سی بی ایس) نے من گھڑت دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنی ایئربیس پر جگہ دی، جسے پاکستانی دفترِ خارجہ نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی تمام خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

برطانوی ادارے بی بی سی اور بھارتی میڈیا نے بھی کابل میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں کو ’انسانی المیہ‘ قرار دے کر پروپیگنڈے کا رخ موڑنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار

پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو ’جیو پولیٹکس‘ سے ’جیو اکنامکس‘ اور امن کی بحالی کی طرف موڑ دیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ بحران میں پاکستان کی مداخلت نے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا ہے۔

پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا اور عالمی سطح پر فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا اسرائیل کے لیے ہمیشہ سے کھٹکتا رہا ہے۔ بھارت، جو خود کو خطے کا تھانیدار سمجھتا ہے، پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کے باعث خود کو پس منظر میں جاتا محسوس کر رہا ہے۔

پروپیگنڈا مشینری کا گٹھ جوڑ

ماہرین کے مطابق پاکستان کے خلاف حالیہ میڈیا مہم محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے کہ سی بی ایس میں شیندی رائس کی تقرری اور باری ویس جیسی متنازع شخصیات کی ادارتی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل نواز لابی امریکی میڈیا کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

ایک طرف بھارت اور اسرائیل میڈیا وار کے ذریعے پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں، تو دوسری طرف افغان طالبان اور ’فتنہ الخوارج‘ کے ذریعے دہشت گردی پھیلا کر پاکستان کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے خلیجی ریاستوں کو ایران امریکا جنگ کی لپیٹ میں آنے سے بچا لیا ہے، جو کہ بھارت اور اسرائیل کے سٹرٹیجک مفادات کے خلاف ہے۔

Related Articles