سیکیورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں خوارج کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی ، کاروائی میں 9 حملہ آور دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ خوارج سے مقابلے کے دوران پاک فوج کے 4 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں خوارج کے ایک گروہ نے سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز کے مؤثر حفاظتی اقدامات اور بروقت کارروائی سے حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 9 خوارجی ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ زخمی حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
سیکیورٹی فورسز نے فوراً علاقے کو گھیرے میں لے کر فرار ہونے والے خوارجیوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے تاکہ باقی ماندہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔
باجوڑ کے حوالے سے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ایک بٹالین اور ونگ ہیڈکوارٹرز پر حملوں سے متعلق بے شمار افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، تاہم یہ تمام خبریں بے بنیاد ہیں اور پاکستان آرمی کے کسی بھی بٹالین یا ونگ ہیڈکوارٹر میں کوئی حملہ آور داخل نہیں ہو سکا۔
آج خوارج کی جانب سے مینا اور عنایت کلے میں چند حملوں کی ناکام کوشش کی گئی، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر جواب دے کر ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں متعدد خوارج ہلاک ہو گئے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر رکھا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ باقی ماندہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔
دوسری جانب فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ایک اور بزدلانہ حملے کی کوشش کی ہے جس کا مقصد سوشل میڈیا کے لیے مواد تیار کرنا تھا تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور ردعمل دیتے ہوئے یہ حملہ ناکام بنادیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے تھانہ درین گڑھ پر حملے کی کوشش کی لیکن تھوڑی دیر تک علاقے میں رکنے کے بعد وہ سیکیورٹی فورسز کے خوف سے موقع سے فرار ہو گئے۔ یہ بزدلانہ کارروائیاں فتنہ الہندوستان کے افراد کی مایوسی کا نتیجہ ہیں جو سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مسلسل جانی اور مالی نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس حملے کے بعد فتنہ الہندوستان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اس واقعہ کی تشہیر کی جو ان کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور مواد تیار کرنے کی ایک اور کوشش تھی۔ یہ کارروائی صرف سوشل میڈیا پر مواد بنانے کے لیے تھی اور اس کا کوئی حقیقت سے تعلق نہیں تھا۔
موقع پر موجود پولیس ذرائع کے مطابق، تھانہ درین گڑھ کے عملے کو یرغمال بنانے اور اسلحہ چھیننے کے حوالے سے جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں وہ بالکل بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔