منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے لاہور میں رہائش پذیر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انمول عرف پنکی لاہور میں ایک کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھی، جس کا کرایہ نامہ 300 روپے والے اسٹام پیپر پر 11 ماہ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کرایہ نامہ طاہر نامی شخص کے نام پر تیار کرایا گیا۔ گھر کے لیے ایڈوانس کے طور پر 90 ہزار روپے ادا کیے گئے، جبکہ ماہانہ کرایہ 45 ہزار روپے مقرر کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے وقت اس کے والدین بھی گھر میں موجود تھے۔ پنکی کی گرفتاری کے بعد سے مذکورہ گھر کو تالے لگے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب انمول عرف پنکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمہ کو چہرہ ڈھانپ کر اور سخت سکیورٹی کے انتظامات کے ساتھ سٹی کورٹ کراچی سے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں لایا گیا۔
عدالت میں پیشی کے دوران پنکی نے شور و غل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 22 دن سے گرفتار کیا گیا ہے، لاہور سے کراچی لایا گیا، ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں اور گرفتار کے دوران ان پر تشدد بھی کیا گیا۔
عدالت نے ملزمہ کو یقین دہانی کرائی کہ عدالت میں کسی کے ذریعے ان کو ہراساں نہیں کیا جا سکتا اور ان کے وکیل کا مکمل مؤقف سنا جائے گا۔
پنکی نے مزید عدالت میں دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف 20 سے 25 پرچے درج کیے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اگر سب کچھ قبول نہ کیا تو ان کے اہل خانہ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ 3 دن ریمانڈ کے دوران کیس میں کیا پیش رفت ہوئی؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ 7 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور ملزمہ کی نشاندہی پر ریکوری عمل میں ہے، تاہم ملزمہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے؟، جس پر افسر نے جواب دیا کہ پہلا آرڈر پولیس موبائل میں موجود ہے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انویسٹی گیشن آپ کی ذمہ داری ہے۔