عالمی توانائی بحران کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ نے تیل کے ذخائر میں تیزی سے کمی پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث دنیا بھر میں تیل کے تجارتی ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔
پیرس میں جی 7 ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاتح بیرول نے کہا کہ دنیا کے پاس اب صرف چند ہفتوں کا وقت باقی ہے کیونکہ ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور یہ لامحدود نہیں کہ ہمیشہ سپلائی فراہم کرتے رہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے اسٹریٹجک ذخائر مارکیٹ میں لانے کے باوجود تیل کی کمی برقرار ہے اور عالمی منڈیوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی نصف کرہ میں گرمیوں کے سفری سیزن کے آغاز کے باعث تیل اور خصوصاً جیٹ فیول کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایئر لائنز نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی میں تعطل برقرار رہا تو چند ہفتوں میں ہوائی جہازوں کے ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت مؤثر طور پر محدود کر دی جس کے بعد عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق جنگ بندی مذاکرات میں ناکامی کے بعد مختلف ممالک ریکارڈ رفتار سے اپنے تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر استعمال کر رہے ہیں۔ ادارے نے اپنے 32 رکن ممالک کے ہنگامی ذخائر سے 42 کروڑ 60 لاکھ بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کے عمل کو مربوط کیا ہے جبکہ اب تک تقریباً 16 کروڑ 40 لاکھ بیرل تیل جاری کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی کے دوران کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔