دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے بارے میں ایک حیران کن سائنسی حقیقت سامنے آئی ہے جس نے زمین کی تاریخ کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ماونٹ ایورسٹ کی چوٹی کے قریب ایسے فوسلز دریافت ہوئے ہیں جو سمندری حیات سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں براکیوپوڈز اور دیگر قدیم سمندری جاندار شامل ہیں۔ یہ آثار اس بات کا ثبوت ہیں کہ لاکھوں سال پہلے یہ خطہ سمندر کے نیچے تھا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 45 کروڑ سال قبل یہ علاقہ قدیم ٹیٹھیز سمندر کا حصہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس حرکت کرتی رہیں، جس میں بھارتی پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کا ٹکراؤ ہوا۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں زمین کی سطح اوپر اٹھی اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے نے جنم لیا۔
یہ عمل آج بھی جاری ہے اور ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ ہر سال معمولی مقدار میں مزید بلند ہو رہا ہے۔ جو چوٹی آج دنیا کی سب سے بلند ترین جگہ سمجھی جاتی ہے، وہ کبھی سمندر کی گہرائی میں موجود تھی، جو اس بات کی واضح مثال ہے کہ زمین وقت کے ساتھ کس قدر بڑی تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔