پاکستان کی معاشی اور کاروباری فضا سے ایک انتہائی مثبت اور جاندار پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کاروباری ہفتے کے دوسرے روز یعنی منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو چار چاند لگا دیے ہیں۔
مارکیٹ میں جاری اس تیز ترین خریداری کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 1644 پوائنٹس کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 63 ہزار 449 پوائنٹس کی نئی تاریخی سطح پر آ گیا ہے۔
دوسری جانب، روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ برقرار ہے اور انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر مزید 3 پیسے سستا ہو گیا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ اور فاریکس مارکیٹ کے مائیکرو اعداد و شمار
بازارِ حصص اور کرنسی مارکیٹ سے حاصل ہونے والے تازہ ترین اور دستاویزی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جن کے مطابق 100 انڈیکس کی موجودہ صورتحال میں کاروبار کے دوران 1644 پوائنٹس کی تاریخی برتری کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 63 ہزار 449 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
دن بھر کا اتار چڑھاؤ
منگل کو کاروبار کے دوران 100 انڈیکس نے 1 لاکھ 63 ہزار 33 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح کو چھوا، جبکہ انویسٹرز کی جارحانہ بائنگ کی بدولت انڈیکس 1400 پوائنٹس کی حد عبور کرتے ہوئے 1 لاکھ 64 ہزار 309 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک بھی گیا۔
گزشتہ روز کا تقابل
یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری روز (پیر) کے اختتام پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 61 ہزار 805 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج مارکیٹ نے زبردست زون میں اوپننگ کی۔
ڈالر کی انٹربینک قیمت
معاشی محاذ پر روپے کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 3 پیسے سستا ہو کر 278 روپے 57 پیسے کی سطح پر آ گیا ہے، جبکہ گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر 278 روپے 60 پیسے پر بند ہوا تھا۔
آئی ایم ایف مذاکرات، بجٹ کی تیاری اور معاشی استحکام
اسٹاک مارکیٹ میں آنے والی اس حالیہ تیزی اور روپے کے استحکام کا پس منظر ملک میں جاری اہم ترین معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات کا آخری دور جاری ہے، جہاں سیلز ٹیکس اور ریونیو اہداف پر اہم اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے۔
سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ نئے بیل آؤٹ پروگرام کی منظوری سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے کھلیں گے۔
مزید برآں، ملک بھر کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں 63 ارب 94 کروڑ روپے کے ممکنہ ریلیف کی خبروں نے کارپوریٹ سیکٹر اور بڑی صنعتوں (جیسے سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور فرٹیلائزر) کے مالکان کو مارکیٹ سے شیئرز خریدنے پر مجبور کیا، کیونکہ بجلی سستی ہونے سے ان کمپنیوں کے منافع میں اضافے کا امکان ہے۔
انڈیکس کا 1 لاکھ 63 ہزار کی حد عبور کرنا ملکی معیشت کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 1 لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی بالادستی حاصل کرنا اور ڈالر کا 278 روپے کی رینج میں مستحکم رہنا اس بات کی گواہی ہے کہ ملکی معیشت اب جمود سے نکل کر بہتری کی طرف گامزن ہے۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی
ماضی میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے باعث جو انویسٹرز مارکیٹ سے دور تھے، وہ اب بجٹ سے پہلے بڑی تعداد میں شیئرز کی خریداری کر رہے ہیں۔ انڈیکس کا 1 لاکھ 64 ہزار 309 کی بلند سطح تک جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ’بلش ٹرینڈ‘ (تیزی کا رجحان) انتہائی مضبوط ہے اور عارضی پرافٹ ٹیکنگ کے باوجود مارکیٹ نیچے گرنے کو تیار نہیں۔
روپے کا استحکام اور درآمدی لاگت
انٹربینک میں ڈالر کا 3 پیسے سستا ہو کر 278 روپے 57 پیسے پر آنا بظاہر ایک معمولی کمی لگتی ہے، لیکن اس کا تزویراتی فائدہ یہ ہے کہ یہ پچھلے کئی ہفتوں سے ایک مستحکم پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ڈالر کی قیمت منجمد رہنے سے ملکی درآمدی لاگت (امپورٹ بل) قابو میں رہتی ہے، جس سے افراطِ زر (مہنگائی) کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے اور اسٹیٹ بینک کے لیے آنے والی پالیسی میں شرحِ سود (انٹرسٹ ریٹ) کو مزید کم کرنے کا راستہ صاف ہو رہا ہے۔
اگر حکومت ایک متوازن اور کاروباری دوست بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہو گئی، تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج بہت جلد 1 لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی عبور کر سکتی ہے۔