سان ڈیاگومیں اسلامی مرکز کے باہر فائرنگ کا واقعہ، نیویارک میئر ظہران ممدانی کا اسلاموفوبیا کے خلاف بڑا اعلان

سان ڈیاگومیں اسلامی مرکز کے باہر فائرنگ کا واقعہ، نیویارک میئر ظہران ممدانی کا اسلاموفوبیا کے خلاف بڑا اعلان

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے ایک معروف اسلامی مرکز پر فائرنگ کے بزدلانہ واقعے نے امریکی مسلم کمیونٹی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اس افسوسناک واقعے پر فوری اور سخت ردعمل دیتے ہوئے اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے واضح طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملہ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:100 دن مکمل،ظہران ممدانی نے انوکھی روایت قائم کر ڈالی

اپنے ایک ہنگامی اور تفصیلی بیان میں میئر نیویارک نے کہا کہ سان ڈیاگو کے اسلامی مرکز پر اندھا دھند فائرنگ کی خبر سن کر انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے اور ان کی تمام تر ہمدردیاں اور دعائیں اس وقت متاثرین کے سوگوار اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے امریکی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کریں تاکہ پسِ پردہ محرکات کو بے نقاب کیا جا سکے۔

میئر نیویارک کا باضابطہ بیان اور اسلاموفوبیا کے خلاف انتباہ

میئر ظہران ممدانی نے اپنے جاری کردہ پالیسی بیان میں امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

نفرت انگیز واقعہ

نیویارک میئرظہران ممدانی کا کہنا تھا کہ اب تک سامنے آنے والی ابتدائی اور دستاویزی اطلاعات کے مطابق یہ خونی واقعہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی کا براہِ راست نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

مسلم کمیونٹی کو خطرات

انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اسلاموفوبیا (مسلمانوں سے بلاجواز خوف اور نفرت) کا یہ بڑھتا ہوا رجحان اس وقت پورے ملک میں مسلم کمیونٹی کی جان و مال کو شدید ترین خطرات میں ڈال رہا ہے۔

متحدہ جدوجہد کی اپیل

ظہران ممدانی نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی معاشرے کو اسلاموفوبیا کا براہِ راست اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا، اور چند مخصوص عناصر کی طرف سے پھیلائی جانے والی خوف و تقسیم کی زہریلی سیاست کے خلاف تمام شہریوں کو متحد ہو کر کھڑا ہونا پڑے گا۔

نیویارک میں مساجد اور اسلامی مراکز پر سیکیورٹی کے ہنگامی اقدامات

سان ڈیاگو میں ہونے والے اس حملے کے فوری بعد، میئر نیویارک نے اپنے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور مسلم شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہر کے تمام پانچوں اضلاع میں قائم مساجد، اسلامی مراکز، مسلم اسکولوں اور کمیونٹی ہالز کے باہر پولیس کی اضافی نفری اور پیٹرولنگ گاڑیاں تعینات کی جا رہی ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ ردعمل یا نقلِ مکانی کرنے والے شرپسند عناصر کی کارروائی کو روکنا اور عبادت گاہوں میں آنے والے نمازیوں کے تحفظ اور احساسِ تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانا ہے۔

امریکا میں اسلاموفوبیا اور عبادت گاہوں پر حملوں کی تاریخ

امریکا میں گزشتہ چند سالوں، بالخصوص حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹیکل صورتحال کے بعد مسلم اور عرب کمیونٹی کے خلاف بڑھتے ہوئے ’ہیٹ کرائمز‘ (نفرت پر مبنی جرائم) سے جڑا ہوا ہے۔

عالمی حقوق کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق  امریکا میں مساجد پر حملوں، توڑ پھوڑ  اور حجاب پہننے والی خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

نیویارک کے موجودہ میئر ظہران ممدانی، جو خود مسلم اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے کی وجہ سے تارکینِ وطن اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے ایک توانا آواز مانے جاتے ہیں، ماضی میں بھی نسل پرستی اور مذہبی تفریق کے خلاف سخت موقف اپناتے آئے ہیں۔

سان ڈیاگو کا یہ حالیہ واقعہ مسلم کمیونٹی کو یہ یاد دلاتا ہے کہ لبرل ریاستوں میں بھی اب ان کی عبادت گاہیں انتہا پسند نظریات کے حامل افراد کے نشانے پر ہیں۔

نفرت کی سیاست اور امریکی اداروں کا امتحان

واضح رہے کہ سان ڈیاگو اسلامک سینٹر پر فائرنگ اور اس کے بعد میئر نیویارک کا فوری سخت ردعمل امریکی اندرونی سیاست اور سماجی ڈھانچے کے دو اہم پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے

امریکا میں انتخابی مہمات اور سیاسی بیانیوں میں جب بھی اقلیتوں یا کسی مخصوص مذہب کو ہدف بنایا جاتا ہے، تو اس کا اثر براہِ راست گلی محلوں میں نفرت کی شکل میں نکلتا ہے۔ بندوق کلچر (گن وائلنس) اور اسلاموفوبیا کا یہ ملاپ امریکی داخلی سیکیورٹی کے لیے اب ایک ناسور بن چکا ہے، جہاں کوئی بھی سرپھرا شخص نظریاتی نفرت کے تحت کسی بھی وقت ہتھیا اٹھا کر معصوموں پر گولیاں برسا دیتا ہے۔

نیویارک انتظامیہ کی پیشگی حکمتِ عملی

میئر ظہران ممدانی کی جانب سے نیویارک میں فوری طور پر پولیس کی نفری بڑھانے کا فیصلہ ایک انتہائی اسمارٹ اور اسٹرٹیجک قدم ہے۔ ایسے واقعات کے بعد اکثر دیگر شہروں میں دیکھا دیکھی حملے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مساجد کے باہر پولیس کی موجودگی سے نہ صرف شرپسندوں کو سخت پیغام جائے گا، بلکہ جمعہ اور دیگر باجماعت نمازوں کے دوران مسلم کمیونٹی بغیر کسی خوف کے اپنی مذہبی عبادات سرانجام دے سکے گی۔

اب امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور مقامی سیکیورٹی اداروں کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کو توڑیں جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر مسلم مخالف نفرت پھیلا رہا ہے۔

Related Articles