پاک آسٹریلیا کرکٹ سیریز، پاکستان ٹیم کے 2 اہم اوپنر کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

پاک آسٹریلیا کرکٹ سیریز، پاکستان ٹیم کے 2 اہم اوپنر کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ہائی پروفائل وائٹ بال سیریز کے باقاعدہ آغاز سے چند ہی دن قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس وقت ایک شدید دھچکا لگا ہے جب قومی ٹیم کے دو اہم ترین مایہ ناز اوپننگ بلے باز فخر زمان اور نوجوان صائم ایوب فٹنس مسائل (انجریز) کے باعث سلیکشن کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے آفیشل ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جارح مزاج بیٹرز اس وقت مختلف انجریز کا شکار ہیں اور آسٹریلیا کے خلاف شیڈول ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کے انتخاب کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:کرکٹ شائقین کو بڑا جھٹکا، پاکستان کرکٹ ٹیم کی رینکنگ بھی گرگئی اور جرمانہ بھی عائد

کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ دونوں کھلاڑی اس وقت پی سی بی کے میڈیکل اسٹاف اور فزیوز کی کڑی نگرانی میں بحالیِ صحت (ری ہیب) کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

سیریز کا شیڈول

پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کا پہلا ٹکراؤ 30 مئی سے شروع ہو رہا ہے۔ فخر زمان اور صائم ایوب کے باہر ہونے سے پاکستان کا اوپننگ کمبینیشن مشکلات کا شکار ہو گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ سلیکٹرز کو اب بالکل نئے اوپنرز میدان میں اتارنے ہوں گے۔

ری ہیب کی مدت

میڈیکل پینل کے مطابق دونوں کرکٹرز کو مکمل میچ فٹنس حاصل کرنے کے لیے اگلے چند ہفتے نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) لاہور میں گزارنے ہوں گے۔

قومی کرکٹ بورڈ کی جانب سے دونوں اوپنرز کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے دورے کے لیے پاکستان کے فائنل اسکواڈ کا اعلان اور دیگر کھلاڑیوں کی فٹنس رپورٹس کے حوالے سے حتمی اپ ڈیٹ بہت جلد جاری کر دی جائے گی۔

آسٹریلیا کی تیز پچز اور پاکستان کا اوپننگ بحران

اس بری خبر کا پس منظر پاکستان کرکٹ ٹیم کے حالیہ بین الاقوامی شیڈول اور آسٹریلیا کی مشکل ترین باؤنسی پچز سے جڑا ہوا ہے۔

فخر زمان طویل عرصے سے پاکستان کے ون ڈے فارمیٹ کی ریڑھ کی ہڈی مانے جاتے ہیں، جو آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی سمیت بڑے میچز میں سنچریاں اسکور کر کے پاکستان کو اکیلے دم پر فتوحات دلا چکے ہیں۔

دوسری طرف، صائم ایوب کو پاکستان کرکٹ کا فیوچر اسٹار مانا جا رہا ہے جو پاور پلے کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماضی میں جب بھی پاکستان نے آسٹریلیا کا دورہ کیا ہے، وہاں مچل اسٹارک، پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ جیسے ورلڈ کلاس تیز باؤلرز کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی طور پر مضبوط اور تجربہ کار اوپنرز کی ضرورت رہی ہے۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش ٹیسٹ : بابر اعظم دوسرے میچ کیلئے دستیاب ہیں یا نہیں ؟ سرفراز نے بتادیا

ایک ایسے وقت میں جب 30 مئی سے سیریز شروع ہونے جا رہی ہے، ان دونوں اوپنرز کا بیک وقت زخمی ہونا کپتان اور ہیڈ کوچ کے لیے ایک ڈراونا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔

متبادل اوپنرز کا امتحان اور ٹیم کے مڈل آرڈر پر دباؤ

واضح رہے کہ فخر زمان اور صائم ایوب کے باہر ہونے سے پاکستان کا بیٹنگ لائن اپ بری طرح متاثر ہوگا۔

متبادل اوپنرز کی تلاش اور کڑا امتحان

فخر اور صائم کی غیر موجودگی میں سلیکشن کمیٹی کے پاس اب عبداللہ شفیق کے ساتھ کسی متبادل اوپنر کو لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔

اس دوڑ میں محمد رضوان سے اوپننگ کرانے یا کسی نئے ڈومیسٹک پرفارمر کو براہِ راست آسٹریلیا کی تیز پچوں پر اتارنے کا آپشن موجود ہے۔ آسٹریلیا میں نئے کھلاڑی کے لیے ایڈجسٹ ہونا انتہائی مشکل ہوتا ہے، جس کا فائدہ کینگررو باؤلرز اٹھا سکتے ہیں۔

کپتان اور مڈل آرڈر پر اضافی بوجھ

جب اوپنرز سستے میں آؤٹ ہو جائیں، تو مڈل آرڈر بلے بازوں (بالخصوص بابر اعظم) پر دباؤ دگنا ہو جاتا ہے۔ فخر زمان کی موجودگی کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ وہ تگڑا اسٹارٹ فراہم کر کے مڈل آرڈر کے لیے پلیٹ فارم تیار کرتے تھے۔ اب پاکستان کو دفاعی کرکٹ کے بجائے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنی ہوگی تاکہ آسٹریلیا کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر ٹکر دی جا سکے۔

Related Articles