چین دنیا میں سگریٹ استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں عالمی سطح پر ہونے والی تمباکو نوشی کا تقریباً نصف حصہ صرف اسی ملک میں استعمال ہوتا ہے۔ اندازوں کے مطابق وہاں ہر سال تقریباً 2.4 کھرب سگریٹ پیے جاتے ہیں، جو اسے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ بناتا ہے۔
یہ وسیع صنعت زیادہ تر ریاستی ادارے کے زیرِ انتظام ہے، جسے دنیا کی سب سے بڑی تمباکو کمپنی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کمپنی کا نیٹ ورک نہ صرف اندرونی مارکیٹ تک محدود ہے بلکہ اس کا اثر عالمی سطح پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
چین میں سگریٹ نوشی ایک طویل عرصے سے سماجی اور ثقافتی معمول کا حصہ رہی ہے، خاص طور پر مردوں میں یہ عادت زیادہ عام ہے۔ بہت سے سماجی مواقع، کاروباری ملاقاتیں اور غیر رسمی محفلیں بھی اکثر سگریٹ نوشی سے جڑی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اس رجحان کو ختم کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق تمباکو کا استعمال دنیا بھر میں قابلِ روک تھام بیماریوں اور قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ طویل عرصے تک سگریٹ نوشی دل، پھیپھڑوں اور کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت بھی بار بار خبردار کرتا رہا ہے کہ اگر تمباکو کے استعمال میں کمی نہ لائی گئی تو آنے والے برسوں میں صحت کے بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔