شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، انتہائی مطلوب خوارجی سرغنہ ’تور ثاقب‘ 4 ساتھیوں سمیت ہلاک

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، انتہائی مطلوب خوارجی سرغنہ ’تور ثاقب‘ 4 ساتھیوں سمیت ہلاک

شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سیکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران فتنہ الخوارج کے انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گرد سرغنہ عمرعرف جان میرعرف ’تور ثاقب‘ کو اس کے 4 قریبی دہشت گرد ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حکومت نے ہلاک ہونے والے خوارجی سرغنہ تور ثاقب کی گرفتاری یا سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ تور ثاقب سیکیورٹی فورسز سمیت معصوم شہریوں پر ہونے والے متعدد ہولناک حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:کوٹئہ شاہبان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن ،فتنہ الخوارج کے 33 دہشتگرد جہنم واصل

سیکیورٹی ذرائع نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ خارجی عمر عرف ثاقب تور نے سپن وام کے علاقے میں واقع بوبالی مسجد کے اطراف زیرِ زمین بنکرز، خفیہ سرنگیں اور بارودی سرنگوں (آئی ای ڈیز) کا ایک خطرناک جال بچھا رکھا تھا، جہاں سے وہ اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو آپریٹ کرتا تھا۔

سیکیورٹی فورسز نے انتہائی مربوط حکمتِ عملی اور جدید ترین انٹیلی جنس معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے اس خفیہ ٹھکانے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لیا۔ فورسز کی فول پروف ناکہ بندی کے باعث دہشت گردوں کو فرار کا موقع نہیں ملا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تمام 5 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔

اس آپریشن کو فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کے لیے ایک کاری ضرب اور بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ اس سفاک کمانڈر کی ہلاکت سے نہ صرف شمالی وزیرستان بلکہ پورے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں:سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن ،ہنگو میں 100 سے زائد دہشتگردوں کی دراندازی ناکام بنا دی

یہ کامیاب کارروائی آپریشن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت کی گئی ہے، جس کا مقصد فتنہ الخوارج اور اس کے پشت پناہ ’فتنہ الہندوستان‘ (بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے نیٹ ورک) کے گٹھ جوڑ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

شمالی وزیرستان اور بوبالی مسجد کا بارودی جال

شمالی وزیرستان طویل عرصے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مرکز رہا ہے، جہاں دہشتگردوں نے ماضی میں بھی شہری آبادی اور مساجد کے ارد گرد اپنے ٹھکانے بنا کر انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔

مقدس مقامات کا غلط استعمال

خارجی کمانڈر تور ثاقب کی جانب سے بوبالی مسجد کے اطراف زیرِ زمین بنکرز اور سرنگیں بنانا اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے مذہبی مقامات کا تقدس پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ مسجد کے گرد بارودی جال بچھانے کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کو روکنا تھا۔

آپریشن عزمِ استحکام کا تسلسل

پاکستان کی عسکری اور سول قیادت نے رواں سال فتنہ الخوارج اور ملک دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت آپریشن عزمِ استحکام کا آغاز کیا ہے۔ اس آپریشن کا بنیادی ہدف انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ٹارگٹڈ کارروائیاں کرنا ہے تاکہ عام آبادی کو نقصان پہنچائے بغیر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا صفایا کیا جا سکے۔

فتنہ الخوارج کے سٹرکچر پر کاری ضرب

اس آپریشن کی کامیابی اور خارجی سرغنہ کی ہلاکت کے ملکی سلامتی پر درج ذیل گہرے اثرات مرتب ہوں گے، کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے ’ماسٹر مائنڈ‘ یا سرغنہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

30 لاکھ روپے کے انعام یافتہ کمانڈر کی ہلاکت سے سپن وام اور گردونواح میں فتنہ الخوارج کا لوکل نیٹ ورک مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گا، کیونکہ ایسے تزویراتی بنکرز اور سرنگوں کے نیٹ ورک کو سنبھالنا نئے کارندوں کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

انٹیلی جنس بیسڈ نیٹ ورک کی برتری

مسجد کے پاس بچھے بارودی جال اور سرنگوں کے باوجود فورسز کا کامیاب آپریشن یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اور سیکیورٹی فورسز اب ان عناصر کی مقامی حکمتِ عملی سے بدرجہا بہتر اور آگے ہیں۔ مربوط گھیرے نے دہشت گردوں کی دفاعی پوزیشن کو بے اثر کر دیا۔

‘فتنہ الہندوستان’ کا بیانیہ

فتنہ الہندوستان کا ذکر یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان ان خوارج کو مقامی خطرہ نہیں بلکہ سرحد پار سے آپریٹ ہونے والا ’پراکسی نیٹ ورک‘ سمجھتا ہے، جسے بھارت کی جانب سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے فنڈنگ اور سٹریٹجک مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اس سرغنہ کی ہلاکت سے اس بیرونی گٹھ جوڑ کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے۔

Related Articles