ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات روٹی اور نان کی قیمتوں پر بھی پڑنے لگے ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں تندور مالکان نے سرکاری نرخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
لاہور میں گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں کو جواز بناتے ہوئے نان بائی ایسوسی ایشن نے پہلے روٹی کی قیمت 14 روپے سے بڑھا کر 20 روپے اور نان 30 روپے میں فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس پر مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔
اب متحدہ نان بائی ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 20 کلو آٹے کی قیمت 2 ہزار 400 روپے اور میدے کی قیمت 12 ہزار روپے تک پہنچنے کے باعث سادہ روٹی 25 روپے جبکہ نان 35 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگے آٹے، ایل پی جی، شاپر بیگز اور دیگر اخراجات کے باعث سرکاری نرخ پر 16 روپے کی روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت تین روز کے اندر مذاکرات کرے، بصورت دیگر احتجاجاً تندور بند کر دیے جائیں گے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایک مرتبہ قیمتوں میں اضافے کے بعد دوبارہ نرخ بڑھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کو سستی روٹی سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا اور قیمتوں میں یکطرفہ اضافے کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادھر کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی روٹی کی قیمت میں 5 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے، جہاں 20 روپے میں فروخت ہونے والی روٹی اب 25 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے، جس سے شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔