نیا ریکارڈ قائم، رواں سال کتنے افراد نے فریضہ حج ادا کیا، اعداد و شمار جاری

نیا ریکارڈ قائم، رواں سال کتنے افراد نے فریضہ حج ادا کیا، اعداد و شمار جاری

سعودی محکمہ شماریات کے مطابق رواں سال فریضہ حج کی ادائیگی کا ایک نیا اور شاندار ریکارڈ قائم ہوا ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 17 لاکھ 7 ہزار 301 افراد نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ہے۔

محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس سال حج کی ادائیگی کے لیے دنیا کے کونے کونے سے ریکارڈ تعداد میں مسلمان سرزمینِ حجاز پر اکٹھے ہوئے۔

حجاج کرام کی تفصیلات اور سفری ذرائع

سعودی محکمہ شماریات نے حجاج کرام کی آمد اور ان کی قومیتوں کے حوالے سے درج ذیل اہم اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

بیرون ملک سے آنے والے حجاج

رواں سال 15 لاکھ 46 ہزار 655 حجاج کرام بیرون ملک سے آئے جن کا تعلق دنیا کی 165 مختلف قومیتوں سے ہے۔ ان غیر ملکی حجاج میں سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

مقامی حجاج

اس سال مقامی طور پر حج ادا کرنے والوں کی تعداد 1 لاکھ 60 ہزار 646 رہی، جس میں سعودی شہری اور وہاں مستقل رہائش پذیر افراد شامل ہیں۔

صنفی تناسب

مجموعی حجاج میں سے 8 لاکھ 93 ہزار 396 مرد حجاج تھے جبکہ خواتین حجاج کی تعداد 8 لاکھ 13 ہزار 905 رہی ہے۔

سفری ذرائع کی تفصیلات

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی حجاج نے مکہ مکرمہ پہنچنے کے لیے مختلف راستے اختیار کیے

فضائی راستہ

سب سے زیادہ یعنی 14 لاکھ 85 ہزار 729 غیر ملکیوں نے فضائی سفر کے ذریعے مملکت میں قدم رکھا۔

زمینی راستہ

54 ہزار 429 افراد نے زمینی راستوں سے اس مبارک سفر کو طے کیا۔

سمندری راستہ

علاوہ ازیں، 6 ہزار 497 غیر ملکی حجاج سمندری راستے سے مملکت پہنچے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح اضافہ

اگر گزشتہ سال کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ سال 16 لاکھ 73 ہزار 230 افراد نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آئندہ سال فریضۂ حج ادا کرنے کے خواہشمند افراد کے اہم خبر

گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال حجاج کی تعداد میں ہونے والا یہ نمایاں اضافہ نہ صرف سفری سہولیات کی بہتری کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کورونا وبا کے اثرات اب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور حج آپریشنز اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ بحال ہو چکے ہیں۔

ریکارڈ ساز حج کے مضمرات

رواں سال 17 لاکھ سے زیادہ افراد کا حج ادا کرنا سعودی حکومت کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک بڑا منہ بولتا ثبوت ہے۔

165 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کو بیک وقت فضائی، زمینی اور سمندری راستوں سے مملکت میں خوش آمدید کہنا اور پھر مناسک حج کے دوران ’امن و امان‘ اور ’صحت عامہ‘ کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

خواتین حجاج کی 8 لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کی بھاری تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ حالیہ برسوں میں حج کے طریقہ کار کو خواتین کے لیے کس قدر محفوظ اور آسان بنایا گیا ہے۔

سفری ذرائع میں فضائی راستے کا سب سے زیادہ 14 لاکھ سے زیادہ استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں اور سعودی ایئرپورٹس کی گنجائش میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

یہ ریکارڈ تعداد مستقبل میں ’سعودی ویژن 2030‘ کے تحت حج و عمرہ کے زائرین کی تعداد مزید بڑھانے کے ہدف کو حاصل کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔

Related Articles