چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے دیامر میں پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہمیشہ عوام کی طرف دیکھتی ہے اور طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو عوامی طاقت سے پارٹی کو کامیاب کریں اور جیالا وزیراعلیٰ منتخب کرائیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے، تاہم پارٹی سے 9 سیٹیں چھینی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں فوجی اڈوں کو بند کروانا اور عوامی منصوبے شامل ہیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ اگر سابق صدر آصف علی زرداری سی پیک نہ لاتے تو اورنج ٹرین کے منصوبے ممکن نہ ہوتے۔ صدر زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو بھی پہچان دی اور علاقے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اگر زرداری کی حکومت سازش کے تحت ختم نہ کی گئی ہوتی تو دیامر بھاشا ڈیم مکمل ہو چکا ہوتا، جو پاکستان کے لیے اس وقت سب سے اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر مکمل کی جائے اور وزیراعظم بھی اس منصوبے میں تیز رفتاری دکھائیں۔ انہوں نے بھارت کی حکومت پر بھی الزام لگایا کہ وہ آبی جارحیت کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے سابقہ دور میں خواتین اور غریبوں کے حقوق کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے دو آمروں کو للکارا اور تاریخ رقم کی، وہ غریبوں کی آواز تھیں، جبکہ سازشی عناصر نے انہیں شہید کر دیا۔ سابق صدر زرداری نے اٹھارہویں ترمیم کو بحال کیا اور روٹی، کپڑا، مکان کے نعرے پر عملی کام کیا۔ آنے والے بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ سابق آمر کے دور میں فوجی اڈوں کی اجازت دی گئی تھی، جس پر ایک قیدی 420 نے کہا تھا کہ “ایبسلوٹلی ناٹ”، بلاول نے کہا کہ یہ بہادری صرف پیپلز پارٹی نے دکھائی اور مرد حر کی حکومت نے بعد میں تمام بیسز بند کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔
بلاول بھٹو نے اختتام پر کہا کہ پاکستان کو آج بھی ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو عالمی سطح پر جرأت کے ساتھ بات کرے اور عوامی حقوق کی حفاظت کرے۔