تحریک انصاف کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی اعتراف کیا کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا انتخاب، جو “وسیم اکرم پلس” کے نام سے مشہور ہے، تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا disaster تھا۔
92 نیوز کے پروگرام “ہو کیا رہا ہے؟” میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وہ اس سے پہلے عثمان بزدار کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیتے تھے، لیکن آج اتنا ضرور کہوں گا کہ بزدار کی قیادت نے پارٹی کو نقصان پہنچایا۔
تحریک انصاف میں اختلافات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اختلافات ہر سیاسی جماعت میں موجود ہوتے ہیں اور بجٹ یا سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتخابات سے قبل یہ اختلافات زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں اور عام طور پر ہر پارٹی میں ایسے حالات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ پارٹی میں کوئی مستقل گروپ بندی موجود نہیں، بلکہ چند اراکین کے کچھ معمولی گلے شکوے ہیں جو سیاسی جماعتوں میں فطری امر ہیں۔